خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 187
خطابات طاہر جلد دوم بن کر کھڑا رہتا ہے۔مسر محمود صاحب ملتان سے لکھتی ہیں: 187 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء ” میری دو بچیاں کالج میں پڑھتی ہیں۔بڑی بچی جو۔B۔A میں پڑھتی ہے اس کو کالج میں احمدیت کی وجہ سے بہت ستایا جاتا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان کے خلاف لکھ لکھ کر میری بچی کو دوسری بچیاں دیتی ہیں جو نہایت گندے اور غلیظ الفاظ پرتی مشتمل ہوتا ہے۔میرے اور بچوں کے دل بہت دکھ محسوس کرتے ہیں اور برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔“ اب یہ جو وارداتیں ہیں یہ کھوکھا احمدیوں کے دل پر گزر رہی ہیں اور دنیا کے کوئی اعداد و شمار ان کا ریکارڈ نہیں کر رہے مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی صداقت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان دلوں پر بھی خدا کے وہی فرشتے نازل ہوتے ہیں جن کا پہلے ذکر گزرا ہے اور ان کی کیفیات کو ریکارڈ کرتے ہیں اور ایک ذرہ بھی ان کے دل کی کیفیت کا خدا تعالیٰ کے ریکارڈ کی کتاب سے باہر نہیں رہتا۔وہ قربانیاں جو ان لوگوں کی نظر میں نہ آئیں جن کی خاطر دی جاتی ہیں، ان قربانیوں میں لذت نہیں ہوتی لیکن اگر انسان کو علم ہو کہ میرا محبوب جس کی خاطر میں قربانی دے رہا ہوں اس کی مجھ پر نظر ہے تو اس کی قربانیوں میں ایک عجیب جلا پیدا ہو جاتی ہے، اس کا شوق اور اس کا ولولہ قربانی کرنے کے لئے اور بڑھتا ہے کیونکہ وہ اپنے محبوب کی نظر میں ہوتا ہے۔پس جماعت احمدیہ کا وہ عظیم گروہ جسے ان گزشتہ سالوں میں غیر معمولی خدمت کی اور غیر معمولی قربانیوں کی توفیق عطا ہوئی ہے وہ یا درکھیں کہ ان کی قربانیوں میں سے ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہورہا اور اس خدا کی ان پر نظر ہے جو خدا ان قربانیوں کے نتیجے میں اور بھی زیادہ پیار کی نگاہیں ان پر ڈالتا ہے۔یہ احساس ضروری ہے بسا اوقات انسان قربانیاں دیتا ہے اور یہ احساس نہیں رکھتا، یہ شعور نہیں رکھتا اس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ قربانیوں کی ہمت باقی نہیں رہتی ، رفتہ رفتہ تھک جاتا ہے اور اس کی استقامت میں فرق آجاتا ہے۔اس لئے قربانی دینے والے احمدیوں کو خواہ وہ دنیا میں کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں