خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 173

خطابات طاہر جلد دوم 173 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء اپنی ساری عمر کی کمائی ہوئی جائیدادیں بیچ کر اپنے بچوں کی جان چھڑانے پر مجبور کئے جارہے ہوں، جہاں دن بدن سفا کی بڑھ رہی ہو، جھوٹ بڑھ رہا ہو، غصب بڑھ رہا ہو ، رشوت بڑھ رہی ہو اور سارے معاشرے سے امن اٹھ چکا ہو وہاں ان حالات کو ہنستے ہوئے برداشت کرنا اور کبھی اشارةُ بھی اس بات کا اظہار نہ کرنا کہ اسلام تو تمہاری گلیوں میں تباہ ہورہا ہے تمہارے گھروں میں تباہ ہورہا ہے، تمہارے شہروں میں تباہ ہو رہا ہے، ہر جگہ اسلام کو ہلاک کیا جارہا ہے اس لئے تم کس اسلام کی حفاظت کی باتیں کر رہے ہو۔یہ کہنے کی بجائے ایک فرضی نظریاتی بحث کو اٹھا کر ساری عوام الناس کو پاگل بنایا جارہا ہے۔اس لئے وہاں بھی دراصل مذہب نہیں بلکہ سیاست کھیل رہی ہے اور سیاست پاکستان کی ایسی الجھ چکی ہے اور بدقسمتی سے ایسی گندی ہو چکی ہے کہ سر دست مجھے پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی واضح امید دکھائی نہیں دیتی کہ جلد حالات پلٹا کھائیں۔یعنی ان حالات کے نقطہ نگاہ ، سے ظاہری تجزیے کے نقطہ نگاہ سے کوئی امید نہیں ہے لیکن جہاں تک خدا کی تقدیر کا تعلق ہے اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمائے ہیں ان کو ضرور پورا کرے گا اور وہ دن دور نہیں کہ جب اس ملک کو سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ شرافت کے ساتھ اس ملک کو قائم رکھنا ہے یا خباثت میں بڑھتے ہوئے اس خدا کی عطا کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دینا ہے۔جب یہ سوال واضح طور پر ابھرے گا اور ابھرتا چلا جارہا ہے۔دن بدن پاکستان کی عوام میں یہ احساس پیدا ہوتا چلا جارہا ہے کہ ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں بقاء اور فنا کا سوال ہے۔To be or not to be کا سوال ہے، ہم نے زندہ رہنا ہے یا نہیں رہنا؟ یہ سوال ہے جو آج درپیش ہے جب یہ سوال اور زیادہ واضح ہوگا تو قوم کوکوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔میری دعا یہ ہے اور میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ بھی اس کو اپنی دعا بنا ئیں کہ خدا اس قوم کو ایسے موقع پر اس دوراہے پر میچ فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ اس ملک پر جب تک ملاں کی لعنت سوار ہے یہ ملک کسی پہلو سے بھی ترقی نہیں کر سکتا۔دن بدن ذلت اور مزید ذلت کا شکار ہوتا چلا جائے گا۔آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جاہل ملاں کسی قوم پر سوار ہوا ہو اور اس نے اس قوم کو تباہی کے گڑھے تک پہنچا نہ دیا ہو۔یہ تو پیر تسمہ پا ہے اور عجیب بات ہے کہ سیاست اس بات کو بجھتی نہیں، عجیب اندھی سیاست ہے ہمارے ملک میں کہ ماضی پر نگاہ رکھتے ہوئے سبق لینا نہیں جانتی۔