خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 170

خطابات طاہر جلد دوم 170 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے امتحان میں کامیاب کرے۔خادم مسجد بھی حفاظت کیلئے گئے ہوئے تھے ان کو بھی زخمی کر دیا گیا اور ان کے بچوں کو آگ میں جلانے کی کوشش کی گئی لیکن خدا کے فرشتوں نے انہیں آگ سے نکال لیا۔میرے بہنوئی کے سر میں کیل ٹھونکے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے مستقل نقصان سے بچالیا۔یہ لمبے قصے ہیں یہ ننکانہ صاحب کے واقعہ کے چند دن بعد کی ڈاک ہے اس سے آپ اندازہ کریں کہ ہر روز کس قسم کے خطوط مجھے ملتے ہیں جو سارے کے سارے مبنی بر حقائق ہیں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔آنکھوں دیکھا کسی بچے نے اپنا دل کا حال بیان کیا کسی بڑے نے اپنے ماحول کی کیفیت بیان کی ، سارے پاکستان کی جماعت شدید دکھوں میں مبتلا ہے۔ایک خاتون ننکانہ صاحب ہی سے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں انتظامیہ نے چونکہ ہمیں بہت تسلی دی اس لئے ہم آرام سے گھروں میں بیٹھ رہے۔ایک دن صبح اسی طرح بیٹھے ہوئے دس منٹ پہلے ہمیں اطلاع ملی کہ میرے بھائی کے گھر کو اور مسجد کو جلا دیا گیا ہے۔میں نے جلدی میں بستر کی چادر اٹھائی اور اوڑھ کر اپنے بھائی کے گھر جانے لگی میرے میاں جلدی سے چھت پر چڑھے تو دیکھا کہ مرزا الطاف الرحمن کے گھر کی طرف سے شعلے اٹھ رہے ہیں انہوں نے مجھے کہا کہ تم جلدی بچوں کو لے کر کہیں چلی جاؤ شہر کی طرف نہ جانا اور میں گھر پہ رہتا ہوں۔میں اپنے تینوں بچوں کو ساتھ لیکر اسی چادر کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کدھر جاؤں۔خدا تعالیٰ نے نہ جانے مجھ میں کہاں سے ہمت ڈال دی اور عقل دی میں نے فوراً کالونی کو چھوڑا اور آدھ میل پر گندم کے کھیتوں کی طرف چلی گئی۔ادھر بچے شہر سے دھوئیں کے بادل دیکھ دیکھ کر رور ہے تھے کہ امی جلدی جاؤ اور ابو کو بھی لے کر آؤ۔چنانچہ میں گھر کی طرف بھاگی اور گھر سے جب آگ کے شعلے بھڑکتے ہوئے دیکھے تو میں پاگل سی ہوگئی۔میں دیوانہ وار اس آگ میں کود پڑی اور اپنے خاوند کو آواز دینے لگی۔تب ہمسائے کی طرف سے مجھے آواز آئی کہ بی بی یہاں آجاؤ تمہارے خاوند کو ہم نے اپنے گھر پناہ دے دی ہے۔تب معلوم ہوا گو وہ تو شہادت کیلئے تیار بیٹھا تھا مگر ہمسایوں نے زبردستی اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر اسے اپنے گھر میں پناہ دی۔کہتی ہیں کہ خاوند بیٹھا یہ ساری باتیں سن رہا تھا سارے واقعات کی براہ راست اس کو اطلاع ہو رہی تھی وہ کہتے ہیں کہ مسلسل جو چیزیں لوٹنے والی تھیں وہ لوٹی