خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 165
خطابات طاہر جلد دوم 165 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء ساتھ اس احمدی ہونے والے کو تبلیغ کی تھی تو اس کے ساتھ اور بھی زیادہ مظالم کا سلوک ہوتا ہے۔اسی قسم کا ایک واقعہ ضلع گوجرانوالہ کے گاؤں کے ایک دوست لکھتے ہیں کہ ایک زمیندار چوہدری نذر محمد صاحب کو بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق ملی۔چونکہ میں اس میں محرک بنا تھا میرے ذریعے سے انہوں نے بیعت کی تھی اس لئے ان کا لڑکا جو شدید مخالف ہے وہ اپنے باپ پر حملہ تو نہیں کر سکتا تھا اس نے مجھے دھوکے سے بلایا اور کہا کہ فلاں جگہ آؤ تو کچھ گفت و شنید کرنی ہے جب میں وہاں گیا تو مجھے بند کر کے اتنا مارا گیا کہ جتنا بھی وہ مارسکتا تھا اور کہا کہ یہ میرا پہلا پیغام ہے اور آخری نہیں۔اگر میرا باپ واپس نہ آیا تو اگلی سزا اس سے زیادہ سخت ہوگی اور اگر وہ پھر واپس نہ آیا تو پھر تمہاری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔اس قسم کی وارنگ کے یعنی تنبیہ کے خطوط کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ کے ممبران کومل رہے ہیں جن کے نمونے وہ مجھے بھجواتے رہے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جن کو اب تک شہادت نصیب ہو چکی ہے اس لئے یہ خیال کہ یہ فرضی خطوط ہیں یونہی دھمکیاں ہیں یہ درست نہیں۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے بظاہر ایک بڑا مہذب خط ملا ہے لیکن جیسا کہ وہ اس کا مضمون کھلتا چلا جائے گا آپ کو معلوم ہوگا یہ کس قسم کا مہذب انسان ہے جو خط مجھے لکھ رہا ہے۔وہ کہتا ہے السلام علیکم ہمارے واحد خدا پاک نے یہی حکم دیا ہے کہ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملو۔اب میں انتہائی ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مرزائیت چھوڑ کر مسلمان ہو جائیں۔میں آپ کو اسلام میں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔امید ہے آپ میری دعوت کو قبول کریں گے اگر نہ کیا تو آپ کی دکان کے باہر لوہے کے بڑے بڑے جنگے جو لگائے گئے ہیں وہ آپ کے کام نہیں آئیں گے۔میں دوسرا خط آپ کو لکھوں گا، پھر میں تیسر اخط آپ کو لکھوں گا، پھر ایک ہفتے کی مہلت آپ کو دوں گا اس کے بعد میرے دین کے مطابق تمہارا قتل جائز ہوگا چونکہ نعوذ باللہ اس کے بیان کے مطابق قرآن پاک میں یہی لکھا ہے کہ کافروں کو جہاں دیکھو قتل کر دو۔مگر میں چاہتا ہوں کہ تم کافر نہ مرواس لئے تمہیں مہلت دے رہا ہوں اگر مسلمان نہ ہوئے تو تمہیں بھی اور تمام مرزائیوں کو جن کو بار بار میں نوٹس دوں گا خدا کی قسم میں قتل کر دوں گا۔آخر پر دستخط میں فقط رسول کا کتا ایک اور غازی علم الدین۔لیکن رسول کا تو اس نے زیادتی کی ہے ویسے کتا لکھ دیتا اپنے آپ کو تو اور بات تھی کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا تو کتا بھی اس سے زیادہ رحم دل اور شریف ہوتا تھا ناممکن ہے