خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 145
خطابات طاہر جلد دوم 145 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ / جولائی ۱۹۸۸ء ایک کروڑ احمدیوں میں ایک بھی ایسا نہیں جو اپنے امام کی منشا کے خلاف کوئی حرکت کرے۔اگر اسلام یہ نہیں تو پھر اسلام اور کیا ہے؟ یہی وہ اسلام ہے جو حضرت اقدس محمد اللہ نے سکھایا اور آج خلافت احمدیہ سے وابستہ ہو چکا ہے۔پھر عوام الناس کو اشتعال دلانے کی مزید کوششیں کرتے ہوئے ایسے ایسے اعلان کئے گئے جن میں سے میں ایک پڑھ کے سناتا ہوں۔جب تک آپ اپنی محنت کا نشانہ مرزا طاہر احمد اور موضع معراجکے کے قادیانیوں کو نہیں بنائیں گے اس وقت تک آپ کی محنت بار آور ہونے کا کوئی امکان نہیں۔پھر ایک بیان شائع ہوا جس پر پاکستان کی ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونے والے علماء نے صاد کیا اس میں جو مشہور علماء شریک ہوئے ان کے نام یہ ہیں۔محمد اشرف انبالوی ، منظور چنیوٹی، عبدالمجید ندیم، مفتی مختار احمد نعیمی ، شریف جالندھری،عبدالحکیم، امیرحسین گیلانی، قاضی اسرار الحق، بغضنفر کراروی ، زاہد الراشدی ، گو ہر الرحمن ، قاضی احسان الحق اور مقامی کونسلر شیخ محمد رشید و دیگر متعدد علماء۔اس میں بار بار حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ مرزا طاہر کو اسلم قریشی کے قتل کے جرم میں پھانسی دی جائے۔کیونکہ اگر نواب محمد احمد کے قتل میں سابق وزیر اعظم بھٹو کو پھانسی دی جاسکتی ہے تو مرزا طاہر کو کیوں نہیں دی جاسکتی۔یہ تمام باتیں صاف ایک سازش کا پتا دے رہی ہیں۔ان علماء نے ایک خاص سازش کے ذریعے ان صاحب کو اس نیت سے غائب کیا کہ خلافت احمدیہ پر حملہ کیا جائے اور اس کے نتیجے میں جو تحریک چلے اس سے جماعت احمد یہ کو اس کی مرکزیت سے محروم کر دیا جائے۔یہ ایک با قاعدہ سازش تھی کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوا۔چنانچہ یہ جو کہا گیا در اصل یہ صدر ضیاء الحق کو تحریک اور تحریک اس رنگ میں کی گئی کہ تم تو بہت بڑے ہیرو ہو تم نے تو سابق وزیر اعظم کو نہیں چھوڑا تمہارے سامنے جماعت احمدیہ کے سربراہ کی حیثیت کیا ہے اس لئے اسے جوان ہیرو ! آگے بڑھو اور مرزا طاہر کو قتل کر کے عظیم الشان مقام حاصل کر لو۔اس رنگ میں ان کو تحریص اور تحریک کی جانے لگی۔پھر جب میں یہاں چلا آیا تو ان کو خیال آیا کہ جس کو ہم قاتل کہتے تھے وہ تو ہاتھ سے نکل گیا ہے۔جب تک اس کے خاندان میں کسی اور کو حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے اس وقت تک یہ تحریکیں اب زندہ نہیں رہیں گی۔چنانچہ انہوں نے اس مقصد کیلئے مرزا لقمان احد کو جو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث مرحوم و مغفور کے صاحبزادے اور میرے داماد ہیں۔ان کو چنا اور