خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 140
خطابات طاہر جلد دوم 140 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔یوں کے کی جماعت کا یہ پانچواں جلسہ سالانہ ہے جس میں میں اور آپ شرکت کی توفیق پار ہے ہیں۔جلسہ کے دوران اپنی دعاؤں میں اس دعا کو بھی شامل رکھیں کہ بار بار مجھے اس نہایت پیاری اور انصار کی روح رکھنے والی جماعت میں آنے کی توفیق ملتی رہے مگر میرا آئندہ جلسہ مرکز احمدیت ربوہ میں ہو اور وہ ہزار ہالکھوکھہا احمدی جو اس جلسے میں شرکت کی بے قرار تمنار کھتے ہیں جس میں میں شامل ہوتا ہوں لیکن اپنی کمائی کے باعث شرکت سے معذور ہیں اور ترستے اور تڑپتے رہتے ہیں، ان کی یہ تمنائیں پوری ہوں اور میری تمنا بھی پوری ہو کہ ان کے چہروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ان سے خطاب کروں۔یہ جلسہ احمدیت کی پہلی صدی میں سال کا آخری جلسہ ہے۔اس پہلو سے اسے خاص تاریخی اہمیت حاصل ہے لیکن ایک اور پہلو سے بھی یہ جلسہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ یہ احمدیت کی صدی کے اس آخری سال کا جلسہ ہے جس میں خدا تعالیٰ نے مجھے اپنے خاص فضل اور نصرت کے ساتھ تمام معاندین احمدیت کو مباھلہ کا چیلنج دینے کی توفیق عطا فرمائی۔سب سے پہلا مباھلہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے معاندین سے کیا یا معاندین کو اس کی دعوت دی۔اس کے متعلق تو کچھ اختلاف ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ 1892ء دسمبر کو 10 تاریخ کو آپ نے جو مباحصلے کا چیلنج دیا اس کے متعلق یہ وضاحت فرمائی کہ اس مباحصلے پر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور خاص مامور کیا گیا ہوں اور اس مباھلے کے نتیجے میں جو واقعات رونما ہوں گے ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے مجھے بکثرت بشارات عطا فرمائی ہیں۔اس کے بعد لمبے عرصے تک مباھلوں کا سلسلہ جاری رہا اور پھر بیچ میں ایک لمبے عرصے تک اس پہلو سے منقطع رہا کہ جماعت احمدیہ کے خلفاء کی طرف سے معاندین کو کوئی اجتماعی چیلنج مباھلے کا نہیں دیا گیا یا اگر دیا گیا ہے تو میری یادداشت میں اس وقت نہیں۔اس پہلو سے میں نے آج کے افتتاحی خطاب کے لئے اس مباحصلے کو بطور موضوع اختیار کیا ہے۔اگر چہ ابھی آغاز ہے اور خصوصیت کے ساتھ یہ بقیہ سال بہت ہی دعاؤں اور ابتہال کا سال ہونا چاہئے۔لیکن اللہ تعالی کی یہ شان ہے کہ ابھی اس مباحلے کے چیلنج کو ایک ماہ بھی نہ گزرا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ایک حیرت انگیز نشان ظاہر کیا جس نے دشمنوں کو رسوا اور ذلیل کر دیا اور اس قدر بوکھلا دیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کس شدت سے ان کے دل پر اس مباھلہ کے پہلے پھل کی چوٹ پڑی ہے۔آپ سب جانتے ہیں کہ مباہلے کا یہ پہینچ