خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 130
خطابات طاہر جلد دوم 130 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء پر مبنی بات کرتی ہے اور بتا رہی ہے کہ اگر چہ ایمان لانا بہر حال بہتر ہے لیکن اگر لاعلمی میں اور غفلت کی حالت میں، بغاوت کی وجہ سے نہیں یا پیغام نہ پہنچنے کی وجہ سے تم ایمان سے محروم ہو تو خدا تعالیٰ تمہیں تمہاری سچائی کے پیمانوں سے ناپے گا۔اگر تم اپنے ایمان میں بچے ہو تو پھر جس تعلیم کوتم الہی تعلیم سمجھتے ہو اس پر دیانت داری سے عمل کر کے دکھاؤ اور جو بھی تقویٰ کے اس معیار پر پورا اتر تا ہو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب بھی صحیح رنگ میں اسلام کا پیغام اس کو پہنچے گا وہ لازما اسلام کو قبول کرے گا کیونکہ عمل صالح اور صداقت کا انکار بیک وقت اکٹھے نہیں ہو سکتے۔جو بھی تقویٰ کے ساتھ ایک صداقت کو صداقت سمجھتے ہوئے قبول کر لیتا ہے اور دیانت داری سے اس پر عمل کرتا ہے جب اس کے سامنے ایک بہتر رنگ میں اعلی درجہ کی روحانی تعلیم پیش کی جاتی ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اس کا انکار کرے۔پس پہلے تو ان قوموں تک اسلام کا صحیح تصور پیش کریں، ان کو سمجھائیں کہ اسلام دنیا کے مذاہب سے کیا سلوک کرتا ہے، کس رنگ میں دیگر مذاہب کی گفتگو کرتا ہے اور تمہیں کیا نصیحت کرتا ہے۔اس کے بعد اس محفوظ مقام پر ان کو قائم کر دینے کے بعد جب آپ اسلام کی گفتگو ان سے کریں گے تو چونکہ پہلا پیغام ان کو یہ ہوگا کہ تقویٰ اور صداقت سے چمٹے رہو اس لئے آپ کی بہت سی مشکلات گفتگو کے دوران اسی بناء پر حل ہو جائیں گی کہ بار بار ان کا ذہن صداقت کی ہی طرف مائل ہوگا اور ضد کر کے جب بھی وہ آپ کی بات کے انکار کرنے کی کوشش کریں گے تو قرآن کریم کی اس ضمانت سے خود بخود باہر نکل جائیں گے لیکن صرف قومی لحاظ سے نہیں، قرآن کریم انفرادی لحاظ سے بھی اس مضمون کو اٹھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ بڑے بڑے شریف النفس لوگ ان میں موجود ہیں، ایسے لوگ ان میں موجود ہیں جو خدا کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، ان کے وجود پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔پاکباز لوگ بھی ان میں موجود ہیں اس لئے تمام غیر قوموں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا اور یہ کہنا کہ تم سب جہنم کا ایندھن ہو اور زبردستی تمہیں مسلمان بنانے پر ہم مامور کئے گئے ہیں اور مجاز بنائے گئے ہیں۔یہ ہرگز اسلام کی تعلیم نہیں، اسلام کی تعلیم کا اس سے دور کا بھی تعلق نہیں۔تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں خوبی کو دیکھو وہاں خوبی کو تسلیم کرو۔جہاں برائی کو دیکھو وہاں برائی کی طرف اشارہ کرو اور اس سے اغماض نہ کرو۔چنانچہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں یہی مضمون بڑے کھلے کھلے الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔برے بھی ہیں اور بدقسمتی سے اکثر برے ہیں لیکن