خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 104
خطابات طاہر جلد دوم 104 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء قابض نہیں ہو سکتے تھے۔انہوں نے پاکستان کے قوانین کی وفاداری کی جھوٹی قسمیں کھائیں اور خدا کے معزز نام لے لے کر قسمیں کھائیں اور اُن قسموں کو توڑا اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں احمدیت پر ظلم ہو رہا ہے تو باہر کے سننے والے ہرگز یہ غلط تاثر نہ قائم کریں کہ نعوذ باللہ پاکستان کی قوم کے خلاف کوئی پرو پیگنڈا کیا جارہا ہے، ہاں یہ پرو پیگنڈا اسی حکومت کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔جب بھی احمدی آواز بلند کرتا ہے خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو حکومت پاکستان ساتھ ہی ایک اور آواز اٹھاتی ہے کہ دیکھو دیکھو یہ لوگ پاکستان کی حکومت کے خلاف ہیں اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔وہ پروپیگنڈا کیا ہے؟ اس کو وہ نہیں دیکھتے یا جان کر اس سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔پروپیگینڈا صرف یہ ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ پاکستان کے اخباروں میں چھپ رہا ہے من وعن اُسے ہم دنیا کے سامنے پہنچا رہے ہیں۔یہ عجیب قسم کا Cancer ہے جو وہاں کی حکومت نے عائد کر رکھا ہے کہ ملک کی آواز باہر نہ جانے دو۔ملک کی آواز اگر باہر نکلی تو تم حکومت کے غدار ہو گے اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے مرتکب سمجھے جاؤ گے۔چنانچہ آنے والوں میں جو احمدی قید کئے گئے اُن میں ایک ایسا بھی تھا جس کے پاس سوائے پاکستانی اخبار کے تراشوں کے اور کچھ بھی نہیں تھا پاکستانی اخبارات کے تراشے اُن کے پاس تھے، جن میں کچھ واقعات لکھے ہوئے تھے۔ان تراشوں کے نتیجے میں اُن کو زدوکوب کیا گیا ، اُن کے اوپر سختی کی گئی اور اس وقت وہ آپ یہاں حاضر ہونے کی بجائے پاکستان کی کسی جیل میں قید و بند کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔نہایت ظالمانہ طریق پر ہر احمدی کی تلاشی لی گئی اور وہ تمام چیزیں جن میں سے ایک بھی حکومت پاکستان نے ضبط نہیں کی ہوئی تھی اُن کے نکلنے پر اُن کے پاسپورٹ چھین لئے گئے اور اُن کو قید میں ڈال دیا گیا۔نظموں کی لیسٹس کسی نے بڑے پیار اور محبت سے بھر کے بھجوائی تھیں تو یہ بھی جرم تھا، کسی نے کوئی مضمون لکھا تھا وہ بھجوایا تو وہ بھی جرم تھا، ایسے رسالے اور کتب جن کو حکومت پاکستان نے ضبط نہیں کیا تھا وہ کسی کے سامان سے نکلے تو وہ بھی جرم تھا۔غرضیکہ ہر راہ، ہر بہانہ جو تلاش کیا جاسکتا تھا آنے والے احمدیوں کو ہراساں کرنے کا اور اُن پر زیادتی کرنے کا وہ اختیار کیا گیا۔پس آج کے افتتاحی اجلاس میں جبکہ عموماً دعا کی تحریک کی جاتی ہے میں سب سے پہلے ان