خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 67

خطابات طاہر جلد دوم 67 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۸۵ء میں آجاتے ہیں چنانچہ وہاں کے ایک چوٹی کے لیڈر کے پاس ایک احمدی دوست پہنچے، ایک وفد پہنچا۔انہوں نے کچھ دیر باتوں کے بعد تعارف کرایا اور کہا کہ آپ کو اصل پتا نہیں کہ ہمارے امام کا مقام کیا ہے تو بحثوں میں پڑنے کی بجائے ہم آپ کو چند شعر سناتے ہیں اور فارسی کی جو کتاب شائع ہوئی، در نمین نکالی انہوں نے اور وہ پڑھنی شروع کی تو وہ لکھتے ہیں کہ ہم حیران رہ گئے تھوڑا سا سننے کے بعد انہوں نے کہا! اچھا باقی مجھ سے سنو۔انہوں نے کہا میں تو عاشق ہوں اس شاعر کا ہتم تو پڑھ رہے ہو دیکھ کر ، میں زبانی تمہیں سناتا ہوں اور بڑے لہک لہک کر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی درنمین کی نظمیں پڑھ کر ان کو سنانی شروع کیں۔کہتے ہیں میں نے تو ایک دفعہ سنا تھا کہ سننا اور اس پر عاشق ہو جانا ایک ہی بات کے دو نام ہیں۔چنانچہ اہل فارس نے دوبارہ دین کے زندہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور بے چارہ فارس ہی ننگارہ گیا تھا باقی ، اب انشاء اللہ تعالیٰ فارس کا حق بھی ادا ہو گا اور وہ کشمیر والا حال نہیں ہو گا کہ وہ غریب غیروں کو تو کپڑے بنا کے دیتے تھے اور آپ ننگے رہتے تھے۔تو انشاء اللہ تعالیٰ اہل فارس تمام دنیا کی طرف سے اس احسان کا بدلہ اتاریں گے اور فارس کو خدا تعالیٰ کے نور سے انشاء اللہ تعالی ہم منور کر کے چھوڑیں گے۔گورمکھی میں لٹریچر کی کمی تھی اس پر اب ہمارے گیانی عباداللہ صاحب وہ تو ویسے تو کام سے فارغ ہو گئے ہیں لیکن پنجابی میں کہتے ہیں نا کہ دیہاڑی پر لگا ہوا یہ پنجابی کی بات ہورہی ہے اس لئے پنجابی کا محاورہ زیادہ چسپاں ہوتا ہے تو دیہاڑی پر لگ گئے ہیں اب لٹریچر تیار کرنے پر اور بیٹس تیار کرنے پر اور ان کو ہم شائع بھی کر رہے ہیں خدا کے فضل سے تیزی کے ساتھ ”ہمارا رسول ، گیانی عباداللہ صاحب کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔پرگنہ بٹالہ کا گروہ شائع ہوگئی ہے۔پیغام صلح، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب کا ترجمہ شائع ہوا ہے، یہ تو غالباً پہلے بھی موجود تھے۔نئی کتا بیں بہت سی تیار ہوئی ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ جلد منظر عام پہ آجائیں گی اور ہندوستان سے بھی میں نے منگوائی ہیں وہاں جو کتابیں موجود تھیں اور اس پر تبصرہ بھی منگوایا ہے کہ آپ کے نزدیک آپ کو کس چیز کی زیادہ مانگ ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ست بچن کا ترجمہ تو وہاں پاکستان میں چوہدری محمد علی صاحب نے انگریزی میں کیا ہے باہر کے سکھوں کو اس کی بھی ضرورت ہے وہ بھی انشاء اللہ شائع کیا جائے گا۔