خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 443
خطابات طاہر جلد دوم 443 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء طریق کو اختیار کرے۔“ (سراج منیر ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۹) لیکھرام اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔حکومت کی طرف سے بریت جاری ہوگئی اور شائع کر دی گئی اور حضرت مرزا صاحب ہیں کہ میدان چھوڑ ہی نہیں رہے۔اُسی طرح دنگل میں کھڑے ہیں۔فرماتے ہیں کہ میرا خدا فیصلہ کرے گا۔اے الزام لگانے والو اگر تم سچے ہو تو آؤ میدان میں اور میں بھی خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ ایک سال کے بعد جو کچھ تم مجھ سے کرنا چاہو گے وہ کرلو اور میری جان حاضر ہے۔اس مقابلہ کے بعد گنگا بشن کی آمادگی اور فرار کا واقعہ ہے۔گنگا پشن نے ۳ را پریل ۱۸۹۷ء کو یہ اعلان کیا کہ میں قسم کھانے کو تیار ہوں لیکن کچھ شرطیں ہیں اگر مرزا صاحب یہ شرطیں مان جائیں تو میں حاضر ہوں شرطیں کیا تھیں؟ پیشگوئی پوری نہ ہونے کی حالت میں آپ کو پھانسی دی جائے گی۔پہلی شرط۔میرے لئے دس ہزار روپیہ گورنمنٹ کے پاس جمع کرا دیا جائے تا کہ آپ کو پھانسی دینے کے بعد جو میں جشن مناؤں۔اُس کے لئے کچھ روپیہ پیسہ بھی ہو۔جب میں قادیان میں قسم کھانے کے لئے آؤں اس بات کا ذمہ لیا جائے کہ مجھے لیکھرام کی طرح قتل نہ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گنگا بشن کی تینوں شرائط منظور فرمالیں اور لکھا کہ :۔غرض میں طیار ہوں نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ گورنمنٹ کی عدالت میں یہ اقرار کر سکتا ہوں کہ جب میں آسمانی فیصلہ سے مجرم ٹھہروں تو مجھ کو پھانسی دی جائے۔میں خوب جانتا ہوں کہ خدا نے میری پیشگوئی پوری کر کے دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ کیا ہے۔پس ہرگز ممکن نہیں ہوگا کہ میں پھانسی لگوں۔یا ایک خرمہرہ کسی تکذیب کرنے والے کو دوں یا ایک خرمہرہ یعنی ایک پائی ایک پیسہ جو کچھ بھی آپ اُسے کہہ لیں کسی تکذیب کرنے والے کو دوں۔بلکہ وہ خدا جس کے حکم سے ہر ایک جنبش وسکون ہے۔اس وقت کوئی اور ایسا نشان دکھائے گا جس کے آگے گردنیں جھک جائیں گی۔(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۵) میدان میں کھڑے ہیں اور دشمن کو دعوت پہ دعوت دے رہے ہیں۔یہ اشتہار پڑھ کر لالہ جی نے کہا ایک سال کو میں نہیں مانتا۔چاہتا ہوں کہ فورا زمین میں غرق کیا جاؤں۔تو اُس کا مطلب تھا کہ اس طریق پر میں بھاگنے کیلئے ایک راہ نکالوں گا۔یا یہ کہ مہینہ اور گھنٹہ موت کا مجھے بتا دیا جائے۔