خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 420

خطابات طاہر جلد دوم 420 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء میتر نہیں تھے جس طرح آج خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں میسر ہیں۔وہ تن تنہا یہ سارے کام خود کیا کرتے تھے۔سوائے ایک دو ایسے علماء کے جو خدمت میں حاضر رہ کر کچھ نہ کچھ ثواب حاصل کرتے تھے۔اس کے بالمقابل یہ سال ۱۹۹۷ء جماعت احمد یہ برطانیہ کے لئے بھی اور جماعت احمدیہ عالمگیر کے لئے بھی تصانیف کے لحاظ سے ایک امتیازی سال ہے۔اس سال تحریری طور پر جو کچھ ہوا ہے وہ بہت وسیع ہے۔مختصر آمیں آپ کے سامنے اپنی چند کتا بیں رکھتا ہوں جن کی دوبارہ اشاعت یا جن کا ترجمہ اس سال میں کر کے کثرت سے دنیا میں پھیلایا گیا ہے۔اس میں سے ایک An Elementry Study of Islam ہے جس کے مطالعہ کے بعد مختلف ممالک سے یہ مطالبہ ہوا کہ اس کا جلد از جلد ہماری زبان میں ترجمہ ہونا ضروری ہے۔کیونکہ پڑھنے والوں کا خیال تھا که نام تو An Elementry Study ہے لیکن در حقیقت اس میں اسلام کی عبادات اور اسلام کی مختلف موضوعات پر جو رہنمائی کی گئی ہے۔ان سب پر روشنی پڑتی ہے اور آسان زبان میں ہے اس لئے اس کو دنیا میں پھیلانا چاہئے۔چنانچہ ناروے کی طرف سے سب سے پہلے یہ تحریک اٹھی تھی اور انہیں کی زبان میں اس کا اب ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔مذہب کے نام پر خون اس کے متعلق دوبارہ اصرار ہوا کہ اسے عربی میں پھر شائع کرنا چاہئے کیونکہ آج کل پھر یہ موضوع دنیا میں عام ہو رہا ہے چنانچہ اَلْقَتْلُ بِاسمِ الدّین کے نام پر اس کا دوسرا ایڈیشن اس سال شائع ہوا۔’Islam's response to contemporary issues “ یہ انگریزی میں پہلے طبع ہوئی تھی۔مگر ساری دنیا کے مطالبات کی وجہ سے اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہو چکا ہے اور اس کے تراجم میں سے روسی ترجمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔جو ہمارے راویل بخارائی کیف صاحب نے کیا ہے اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے مددگار بھی تھے۔راویل صاحب نے مجھے مل کر کہا کہ U۔S۔S۔R, Islam's Response to Contemporary Issues کی تمام ریاستوں کے لئے ایک انتہائی اہم کتاب ہے۔چنانچہ ایک دوسری ریاست کے جو ترجمہ کرنے والے تھے اُنہوں نے خود ر اویل صاحب سے مطالبہ کیا کہ ہمیں جلد از جلد ہماری زبان میں بھی یہ کتاب دی جائے۔مگر سر دست روسی زبان میں اس کا ترجمہ مکمل ہوا ہے اور باقی U۔S۔S۔R کی زبانوں میں یہ ترجمہ زیر نظر ہے۔