خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 412

خطابات طاہر جلد دوم 412 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء دے جب کالے اور گورے کی تمیز مٹ جائے ، جب شمال اور مشرق کی سمتیں بے معنی اور بے حقیقت ہو کر دکھائی دیں تب توحید کا قیام ممکن ہے اور یہ تصور اپنے دل میں ایک حقیقت کے طور پر جاگزیں کریں کہ وہ تصور نہ رہے بلکہ ایک حقیقت بن کر آپ کی عادات آپ کی حرکات وسکنات میں رونما ہونے لگ جائے۔آپ اس تصور کی تصویر بن کے جاگ اٹھیں تب آپ کو توفیق ملے گی کہ آپ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے جن روحانی پرندوں کو بھی بلائیں گے وہ آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے دین واحد پر جمع ہو جائیں گے۔الله مگر نقطہ فَصُرْهُنَّ کا یا درکھیں۔بلانا ہے تو پیار اور محبت سے بلانا ہوگا تکبر اور نخوت سے نہیں، پرندے بھی اگر آپ ان سے پیار نہ کریں تو آپ کی بات کا جواب نہیں دیتے اور جانور بھی یہاں تک کہ خونخوار جانور بھی اگر آپ ان سے پیار کا سلوک کریں تو آپ کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔آپ نے کبھی چڑیا گھر کے شیروں کو دیکھا ہے؟ جو ان کو روٹی ڈالتا ہے جو ان کو گوشت دیتا ہے، اس کے سامنے دیکھیں کیسے وہ سر جھکا دیتے ہیں۔کبھی سرکس کے شیروں کو دیکھا ہے کہ کس طرح وہ اپنے مالک کے حکم پر گردنیں جھکاتے اور اُس کو سواری کے لئے اپنی پیٹھ اس کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔تو فصرهُنَّ کا مضمون ایک بہت ہی عظیم مضمون ہے۔آپ کی راہ میں ہر قسم کے انسان آئیں گے، زیادہ سے زیادہ ایک درندہ صفت ہے جو آپ کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے۔جو خود آپ کو چیر پھاڑ کر کھانے کے لئے آگے بڑھتا ہے مگر یہ فصر ھن کا مضمون ایسا مضمون ہے جو ان اخلاق حسنہ سے جو آنحضرت ﷺ کو بطور خاص عطا ہوئے ، اس میں ادنیٰ بھی شک نہیں ہے کہ دین کی راہ کے خونخوار بھیڑیے بھی آپ کے قدموں پر لوٹنے والے فدائی بن جائیں گے۔جنگل کے شیر بھی بپھریں گے تو اوروں پر بپھریں گے ، آپ کے سامنے اطاعت کے ساتھ گردنیں جھکا دیں گے۔پس آنحضرت ﷺ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لئے وہ ابراہیمی روح پیدا کریں جو دلوں کو گرویدہ بنا دینے والی روح تھی مگر اس کا آخری کامل اظہار آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ہوا اور آپ نے کر کے دکھا دیا۔پس ان چاروں سمتوں کا تصور جو قرآن کریم میں پیش فرمایا گیا ہے مجھے اس میں ادنیٰ بھی شک نہیں یہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں رونما ہونے والا معجزہ تھا اور یہ آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کے نتیجے میں رونما ہونا تھا اور آج بھی آپ کے رحمۃ للعالمین ہونے کے نتیجے