خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 403
خطابات طاہر جلد دوم 403 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء مقام اس کو عطا ہوتا ہے جو اپنے نفس کوفا کر دیتا ہے اور جس کی ہر عظمت خدا کی عظمت بن جاتی ہے اور اس پہلو سے ہرانسان کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی بھرا جاتا ہے اور یہ بھی اللہ کی شانِ عدل اور شان قسط ہے، ہر ظرف کو اس کے مطابق بھر دیتا ہے اور اس پہلو سے حضرت محمد رسول اللہ کا ظرف سب ظرفوں سے بڑا تھا تبھی آنحضور ﷺ کا ظرف بھرا ہے تو گویا کل عالم کے سمندر بھر گئے، ہر خشکی اور تری کو آپ نے بھر دیا۔یہ وہ مرتبہ ہے اور مقام محمد یت ہے جو کل عالم کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے اور اس کے سوا دنیا ایک ہاتھ پر اکٹھی نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے بجز اپنے مولا کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔“ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اصفحہ :۲۹۰) یہ آنحضرت معہ کے متعلق عشق کا ایک عجیب اظہار ہے اور عجیب عرفان کا اظہار ہے۔فرماتے ہیں اس دن سے جو ظہور فرمایا اس دن تک کہ اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اللہ کے سوا کسی کو کچھ نہ سمجھا۔اب سوال یہ ہے کہ کسی کو کیسے نہیں سمجھا کیوں کچھ نہ سمجھا، آپ تو ہر کمزور کے سامنے جھک جایا کرتے تھے، آپ تو بوڑھی اور غلام عورتوں کی آواز پر بھی قدم روک لیتے تھے اور ان کے منشاء کو پورا کرنے کے لئے اپنے مقدس وقت کو خرچ فرماتے تھے۔ایک یتیم کی آواز بھی آپ کے لئے ایسی تھی جیسے کسی استاد کی آواز ہو، کسی بالا ہستی کی آواز ہو۔تو کچھ نہ سمجھا کے کیا معنی ہیں؟ آپ تو ہر اس چیز کو کچھ سمجھتے تھے جو خدا نے پیدا فرمائی تھی مگر فیض پہنچانے کے لئے ، فیض حاصل کرنے کے لئے نہیں۔پس اس مضمون کو غلط نہ سمجھیں اگر آپ دنیا کو کچھ نہیں سمجھیں گے تو آپ موحد نہیں ہوں گے بلکہ اول درجہ کے مشرک ہوں گے۔دنیا کو کچھ نہ سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو بھی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی خاطر، اس کا فیض پہنچانے کے لئے رکھتے ہیں اور جب دنیا کو کچھ نہیں سمجھتے تو اس سے لینا کچھ نہیں ہے، اس سے حرص کوئی نہیں ، اس سے طلب کچھ نہیں، اس کی ضرورت کچھ نہیں، ہر ایک سے آپ کی گردن آزاد کی جاتی ہے۔تب خدا ان سب گردنوں کو آنحضرت عیہ کے حضور جھکا دیتا ہے۔پس یہ عجیب سلسلہ ہے آقا اور غلامی کا کہ دیکھنے میں آقا ہر ایک کا غلام بنا پھرتا ہے۔آپ