خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 393
خطابات طاہر جلد دوم 393 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1996ء سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا تو ایمان نہیں لاتا ؟ ابراہیم عرض کرتے ہیں کہ اے خدا ! کیوں نہیں میں ایمان لاتا ہوں ،مگر دل کا اطمینان چاہتا ہوں۔یہ طرز کلام بتا رہا ہے کہ ایک مستقبل میں ہونے والے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اپنے وقت میں اگر تمام دنیا کے پرندوں کو بلانے کی طاقت رکھتے یا خدا اُن کو یہ طاقت بخشتا تو پھر یہ تعجب آمیز سوال نہ اٹھتا۔یہ سوال بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ روشن فرما دیا تھا، آپ کو یہ خوشخبری دی تھی کہ تیری ذریت اور نسل سے وہ داعی الی اللہ پیدا ہو گا جو تمام دنیا کے مُردوں کو زندہ کرنے والا ہو گا۔وہ محی جب آئے گا تو شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی کوئی تمیز نہیں رہے گی، اُس کی آواز پر مردے جی اٹھیں گے اور لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑے چلے آئیں گے۔اس تعلق میں میں نے عرض کیا تھا کہ یہ مضمون حج سے تعلق رکھتا ہے اور ایک تو وہ حج ہے جو ظاہری حج ہے، ایک وہ ہے جس کا وعدہ آنحضرت ﷺ کو اس آیت کریمہ میں دیا گیا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الفتح (۲۹) که محمد مصطفی ﷺ کو اس لئے مبعوث فرمایا ہے کہ وہ تمام ادیان پر غالب آجائے اور تمام بنی نوع انسان اس کی اطاعت میں، اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدا کے حضور حاضر ہوں۔پس یہ وہ دور ہے جس میں ہم اللہ کے فضل کے ساتھ داخل ہو گئے ہیں۔آج دنیا کے روحانی پرندوں کو زندہ کرنے کے لئے خدا نے اپنے جلوے دکھانے کے لئے ہمیں چن لیا ہے، ہم عاجز بندوں کو چن لیا ہے۔زندہ تو وہی کرے گا ہم میں تو زندہ کرنے کی کوئی طاقت نہیں مگر اس کے وہ وعدے جو ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمائے گئے ، اس کے وہ وعدے جو اس نے حضرت اقدس محمد مصطفی سے فرمائے۔جب آپ سے یہ کہا، جب بنی نوع انسان سے اور مسلمانوں سے بالخصوص یہ کہا کہ جب یہ رسول ﷺ تمہیں اپنی طرف بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو یہ وہی وعدہ ہے جو اس آیت میں ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا، جس کے پورا کرنے اور خوشخبری کے دن آنے کا ذکر وہاں ملتا ہے۔فرمایا دیکھو ابراہیم نے خدا سے پوچھا تھا اپنے رب سے پوچھا تھا کہ بتا تو کیسے ان مردوں کو زندہ کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دے کر ان کو سمجھایا۔مگر وہ زندہ کرنے والا نبی اب آیا ہے جس کے ہاتھوں پر مردوں کو زندہ کیا جانا تھا۔