خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 385

خطبات طاہر جلد دوم 385 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء میری صحبت میں آ کر نہیں رہتے۔تو یہ مطلب نہیں کہ نعوذ بالله من ذالک آپ اپنے مقصد میں ناکام ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا۔ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اس درد کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا اور آپ کو عظیم خوشخبریاں دیں اور بتایا کہ تو چندلوگوں کی نادانی پر کیوں اتنا اداس اور اتنا حزیں ہو جاتا ہے۔چندلوگوں کی غفلتیں تجھے کیوں اتنا غمگین کرتی ہیں؟ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں تیرے پیغام کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔میں تجھے بتا تا ہوں کہ دنیا میں ایک نذیر آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور زور آور حملوں کے ساتھ اس کی سچائی کو دنیا پر روشن کر دے گا۔ان الفاظ میں کوئی تبدیلی ہوتو ہومگر مضمون یہی ہے جو مجھے یاد ہے۔پس آج ہم اس بات کے گواہ بن گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو خوشخبریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائیں آج ہم اپنی آنکھوں سے ان کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ان خوشخبریوں کی تعبیروں کا ایک جز بن چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس جلسے کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔آج یہ وہی جلسہ ہے مسیح موعود علیہ السلام ہی کا جلسہ ہے جو یہاں بھی ہورہا ہے، کل جرمنی میں بھی ہوگا اور پھر دوسرے ممالک میں بھی ہوگا اور ہوتا چلا جائے گا۔یہ ایک جلسہ ہے جو کل عالم پر محیط ہو گیا ہے۔مگر آج یہ جلسہ ان سب جلسوں میں ممتاز ہے کیونکہ ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔آج یہ وہ جلسہ ہے جو کل عالم کو یکساں دکھایا جارہا ہے ، وہ جو شامل نہیں بھی ہو سکے وہ بھی شامل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس جلسے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو خوشخبریاں دیں آپ فرماتے ہیں: یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اس کے لئے قو میں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ: ۲۸۱-۲۸۲) اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے ان وعدوں کو کس شان سے پورا فرمایا۔آج اس جلسے میں جو مختلف تو میں حاضر ہیں ان میں دنیا کے کونے کونے سے ، بڑے بڑے براعظموں سے نمائندگی موجود