خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 384

خطبات طاہر جلد دوم 384 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۵ء کے سوا نہیں بلکہ توحید میں ہو کر بڑھتا ہے۔اس مضمون کو سمجھیں اور اس پہلو سے اپنے اندر تو حید کو راسخ کریں، توحید کے ہر پہلو پر غور کریں ، اس پر نگاہ رکھیں۔شرک کے ہر پہلو کو مٹائیں اور اس کو قطع کر دیں۔اپنے دل کو پاک وصاف بنائیں۔اپنے تعلقات کو وسیع کریں مگر تو حید کی راہ سے، توحید کے دروازے سے ان تعلقات میں داخل ہوں۔غیر اللہ کے دروازوں سے ان تعلقات میں داخل نہ ہوں۔یہی ایک راز ہے جس کو سمجھنے کے نتیجے میں ، یہی وہ ایک حکمت ہے جس کو اپنے دلوں میں جاری کرنے کے نتیجے میں در حقیقت دنیا میں روحانی انقلاب بر پا ہوں گے۔آج دنیا مختلف قوموں میں بٹی ہوئی ہے، آج دنیا مختلف مذاہب میں بٹی ہوئی ہے، آج دنیا مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور ان کے دل پھٹتے چلے جارہے ہیں۔وہ عالمی ادارہ جس کا نام اقوام متحدہ ہے جس کو United Nations کہا جاتا ہے وہ پھٹے ہوئے دلوں کا ایک مصنوعی طور پر باندھا ہوا ایک مجموعہ ہے اس کے سوا اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔کوئی ایک بھی قوم اس میں ایسی نہیں جو جذبہ ایثار کے ساتھ آراستہ ہو۔جو جذبہ ایثار میں سرشار ہو کر بنی نوع انسان کو اکٹھا کرنے کے ارادے کے ساتھ اس عالمی ادارے میں شامل ہوئی ہو۔ہر شخص نفس پرست ہے، ہر قوم جس کی وہ نمائندگی کر رہا ہے وہ نفس پرست ہے۔کیا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں توحید کو قائم کریں گے؟ پس ناموں پر نہ جائیں۔دنیا کے بڑے بڑے اقتدار کے حیلوں کو حقارت کی نظر سے دیکھیں۔یہ اقتداری خیلے دنیا کے کسی کام نہیں آئیں گے اور اگر آپ خدا کے نام پر اکٹھے ہو جائیں گے تو آپ وہ ہیں جو اُس United Nation کو جنم دیں گے جو محمد اور اللہ کی یونائیٹڈ نیشن ہوگی اور تمام کائنات پر چھا جائے گی۔ہر دل کو باندھ دے گی ، ہر وجود کو ایک کر دے گی ، ساری قومیں اس ایک چشمے سے سیراب ہوں گی۔خدا کرے کہ جلد از جلد وہ دن آئیں۔ہمیں اس کی تیاری کرنی ہے کیونکہ ہمارے سپرد یہ کام سونپا گیا ہے۔پس اپنی حقیقت کو پہنچا نہیں ، ان توقعات پر نظر ڈالیں جو آپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔اگر آپ نے پوری نہ کیں تو اور کوئی دنیا میں ان توقعات کو پورا کرنے کے لئے نہیں آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فرماتے ہیں ( درد کے ساتھ فرماتے ہیں ) کہ لوگ توجہ نہیں کر رہے۔ابھی تک جیسا کہ میری تمنا ہے اس طرح ولولے اور جوش اور جذبے کے ساتھ