خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 353

خطابات طاہر جلد دوم 353 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء پس ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اے مسلمانو! تم لوگوں کو تو پتا ہی نہیں دین کا ، دین کے تو ہم علمبر دار ہیں۔تم نے تو اپنا کتابوں کا بوجھ اٹھا کر جن لوگوں کی پیٹھ پر لاد دیا ہے ان سے پوچھو کہ یہ کتا بیں کیا کہتی ہیں اور وہ جس قسم کے لوگ ہیں جن پر یہ بوجھ لا دے گئے ہیں۔قرآن نے ان کی حقیقت کھول دی ہے پھر تو ایسے ہی فتوے جاری ہوں گے۔اذا كان الغراب هاد قوم فيهديهم طـريـق الهالكين کو ابھی ہلاکت کے طریق کی طرف لے جاتا ہے یہ گدھے کہاں لے کے جائیں گے۔قرآن کہتا ہے کہ وہ تو میں جو اپنے بوجھ کو اتار پھینکتی ہیں، خود شریعت سے غافل ہو جاتی ہیں، بے اعتناعی کرتی ہیں ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے مسافر گدھوں پہ کتابوں کا بوجھ ڈال دیں اور پھر ان گدھوں سے فتوے پوچھیں اور رستہ پوچھیں کہ ہدایت کا رستہ کون سا ہے؟ ان کے ایسے ہی فتوے ہوں گے۔قرآن نے یہ لکھا ہے، ان گدھوں کے دماغ میں کچھ اور لکھا ہوا ہے۔اس کے مخالف ہے اور عوام الناس کو پتا ہی نہیں کہ یہ بد نصیب لوگ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں اور قرآن کے نام پر قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں محمد رسول اللہ کی گستاخی کر رہے ہیں۔محمد رسول اللہ کی عزت کے نام پر محمد رسول اللہ کی گستاخی کر رہے ہیں ، اسلام کے نام کی محبت کے نام پر سب دنیا میں اسلام کے خلاف نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔فرماتا ہے: ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ أَمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا یہ اس بدبختی کو اس لئے پہنچے ہیں کہ پہلے ایمان لائے تھے، اللہ گواہ ہے کہ ایمان لے آئے تھے۔ثُمَّ كَفَرُ وا پھر کفر اختیار کیا۔تو مرتد کی سزا بھی ساتھ ہی گئی ، وہ جو بڑے بڑے ڈینگیں مارتے تھے کہ ہم نے ثابت کر دیا کہ مرتد کی سزا اسلام میں قتل ہے اس آیت کو کہاں لے جاؤ گے۔اللہ گواہی دے رہا ہے ،معروف لوگ ہیں، محمد رسول اللہ جانتے ہیں، صحابہ جانتے ہیں کون ہیں۔ان کے متعلق مولوی کا فتویٰ نہیں ہے کہ مرتد ہیں، خدا کا فتویٰ ہے اور ہم کلام محمد رسول اللہ سے اور محمد رسول اللہ خدا کی یہ گواہی دنیا کے سامنے پیش فرما رہے ہیں کہ اللہ کہتا ہے یہ سارے لوگ پہلے مومن تھے پھر مرتد ہوئے ، پھر منافق بھی ہوئے اور دہرا، تہرا ان کا گناہ ہے لیکن قتل نہیں قتل کی اجازت نہیں۔اور پھر دل پر مہریں بھی لگ گئیں، یہ بھی خطرہ نہیں کہ شاید بعد میں ایمان لے آئیں اس لئے چھوڑ دو ان کو نہیں نہیں ان کے تو مہریں لگ چکیں ، اب اس کفر کی حالت میں مریں گے اور کوئی ان کو بیچا نہیں سکتا۔پھر بھی قتل کا فتویٰ جاری نہیں ہوتا۔پھر اس بات کو خوب کھو لتے ہوئے اللہ تعالیٰ ایک آیت کے بعد پھر یہ فرماتا ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ