خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 323
خطابات طاہر جلد دوم 323 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء جس کا نام خدا نے محمد رکھا کسی کی کیا مجال کہ اس کی تو ہین کر سکے۔توہین رسالت اور آپ کا اپنا عظیم کردار نیز توہین رسالت کے حقیقی مرتکب لوگوں کا ذکر افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۹ جولائی ۱۹۹۴ء بمقام اسلام آباد تلفورڈ برطانیہ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔ایک مادی کائنات کو روشن کرنے والا سورج ہے اور ایک روحانی کائنات کو روشن کرنے والا سورج ہے۔مادی کائنات کو روشن کرنے والا سورج تو ہر روز اسی آب و تاب اسی شان کے ساتھ طلوع ہوتا ہے لیکن روحانی کائنات کو روشن کرنے والا سورج یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہر روز نئے جلوؤں اور نئی شان کے ساتھ طلوع ہورہے ہیں اور آپ کی شان روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔آج یہ شان احمدیت کی صورت میں دنیا کے سامنے جلوہ گر ہے اور خدا کا فضل حضرت اقدس محمد مصطفی میت ہے کے فیض اور برکتوں کو جماعت احمدیہ کے ذریعے روز بروز دنیا میں پھیلاتا چلا جارہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کی شان ہے جو آنحضور ﷺ کا نور بن کر چمکی اور وہی شان ہے جسے آج ہم ہر روز ترقی یافتہ صورت میں یعنی ایسی صورت میں کہ دنیا کی آنکھیں زیادہ سے زیادہ اس سے خیرہ ہوتی چلی جارہی ہیں اور زیادہ سے زیادہ روشن ہوتی چلی جارہی ہیں دیکھ رہے ہیں۔اس افتتاحی خطاب کا موضوع تو میں پہلے بیان کر چکا ہوں لیکن افتتاحی خطاب کی کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو اصل موضوع سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ روزمرہ کے افتتاحی خطاب کے مضمون سے