خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 318
خطابات طاہر جلد دوم 318 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ء ہے اور عالمی برادری کا ایک نظام جاری ہوتا ہے۔ڈش انٹینا کے بعد بعض دوستوں نے یہ کہا کہ اب تو ہم ڈش انٹینا پر دیکھ سکتے ہیں، اب آنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ ڈش کے ذریعے دیکھنا اور بات ہے وہاں پہنچ کر دیکھنا اور بات ہے، بڑا فرق ہے۔یہ باتیں جو مختلف جگہوں سے پہنچی ہیں تو مجھے یہ خطرہ پیدا ہوا تھا کہ یہ ڈش انٹینا کہیں بعض لوگوں کے آنے کی راہ میں حائل نہ ہو جائے مگر جیسا کہ آپ آج دیکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جوق در جوق شوق محبت اور شوق وصال میں ساری دنیا سے احمدیت کے پروانے آج یہاں اکٹھے ہو گئے ہیں اور یہ سلسلہ ڈش انٹینا کے نتیجے میں کم نہیں ہوا بلکہ بڑھ رہا ہے۔وہ جنہوں نے پہلی دفعہ ڈش انٹینا کے ذریعے جماعت کے جلسوں کو دیکھا ہے ان کا شوق دیدار تیز ہوا ہے، مدھم نہیں ہوا اور آج بڑی کثرت سے ایسے ملکوں سے لوگ آئے ہیں جو پہلے کبھی نہیں آئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس ڈش انٹینا کی برکت سے عالمی مواصلاتی ذریعے سے جو نظارے انہوں نے دیکھے ہیں، انہوں نے شوق دید کو اور زیادہ بیتاب کر دیا ہے اور بڑھا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بات بیان فرمائی تھی وہی حق ہے۔جومل کر بیٹھنے اور صحبت اختیار کرنے کی برکت ہے وہ اپنی جگہ ہے، اس کو کوئی دوسری چیز ہٹا نہیں سکتی ، اس کے بدلے میں کوئی اور چیز اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔فرماتے ہیں۔کبھی کبھی ضرور ملنا چاہئے کیونکہ سلسلہء بیعت میں داخل ہوکر پھر ملاقات کی پرواہ نہ رکھنا ، ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی اور چونکہ ہر یک کے لئے باعث ضعف فطرت یا کمی مقدرت یا بعد مسافت یہ میسر نہیں آ سکتا کہ وہ صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اٹھا کر ملاقات کیلئے آوے کیونکہ اکثر دلوں میں ابھی ایسا اشتعال شوق نہیں کہ ملاقات کے لئے بڑی بڑی تکالیف اور بڑے بڑے حرجوں کو اپنے اوپر روا رکھ سکیں۔لہذا قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کیلئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قو یہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ: ۲۳۸)