خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 28
خطابات طاہر جلد دوم 28 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء نام پر ایسا کیا جارہا ہے۔لبنان کے حالات آپ جانتے ہیں کتنے درد ناک ہیں۔کس طرح مسلمان کی آزادی کے علمبر داروں نے ایک دوسرے کا خون بہایا اور کوئی پشیمانی نہیں ہوئی۔کوئی احساس ندامت نہیں پیدا ہوا یہی حال ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ایران، عراق کے ساتھ لڑ رہا ہے اور مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے۔غیر قوموں سے ہتھیار مانگ مانگ کر اور خرید خرید کر مسلمان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اور ان کی زندگی بھر کی کمائیاں اور جائیداد میں آگ کی نذر کی جارہی ہیں اور مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔یہ وہ دردناک حالات ہیں جو ہمارے لئے فکر کا موجب ہیں۔آج دنیا میں بعض لوگوں کو خطرہ صرف احمدیت سے نظر آ رہا ہے جن سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے وہ جو ساری دنیا کے امن کی ضمانت ہیں۔بعض لوگ ان کو خطرہ بیان کر رہے ہیں اور ان باقی سارے خطرات سے آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اس لئے دعائیں کریں ان آنکھوں کے لئے کہ ان کو بصارت نصیب ہو ان دلوں کے لئے جو بند ہو گئے ہیں اور صداقت کو دیکھ نہیں سکتے ان کی آنکھوں کے سامنے نہایت ہولناک واقعات رونما ہور ہے ہیں لیکن ان کو فکر پیدا نہیں ہوتی۔ایک طرف اشتراکیت ہے جو مسلمان ممالک پر بھی قبضہ کرتی چلی جارہی ہے اُن کے ذہنوں پر بھی قابض ہورہی ہے اور ان کے دلوں کو بھی اپنا بنا رہی ہے۔دوسری طرف مادہ پرستی ہے جو ایک اور قسم کا زہر لے کر مسلمان کے رگ وپے میں داخل ہو رہی ہے اور دونوں ہلاکتیں دراصل خدا سے دور لے کر جارہی ہیں۔یہ وہ حقیقی خطرات ہیں جو آج بڑی کثرت کے ساتھ اور بڑی تفصیل کے ساتھ مسلمان دنیا کو در پیش ہیں اور دن بدن بڑھتے جارہے ہیں لیکن کچھ آنکھیں ایسی بھی ہیں جو ان کو دیکھنے سے انکار کر رہی ہیں۔ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خدائے واحد کے بندے محمد مصطفی امیہ کے غلام دہریت کا شکار ہو جائیں یا مادہ پرستی کے زہر سے مارے جائیں ان کو سوائے احمدیت کے اور کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا۔پس ان کے لئے دُعا کرنا ہمارا کام ہے۔ہم اس بات کے لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ قول اور فعل ہی سے نہیں دعاؤں کے ذریعہ بھی اس دنیا کو بچانے کا انتظام کریں۔پس اپنی دعاؤں میں بکثرت اپنے مسلمان بھائیوں کو یا درکھیں۔فلسطین کے لئے بھی دعا کریں اور لبنان کے لئے بھی دعا کریں۔سعودی عرب کے لئے بھی دعا کریں اور یمن کے لئے بھی دُعا کریں۔دعائیں کریں عراق