خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 300
خطابات طاہر جلد دوم 300 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۳ء اور اس کے عظیم دائی پھلوں کو چکھنے کی توفیق پائیں۔آمین۔جو فیض تربیت کے سلسلے میں جاری ہور ہے ہیں اور تبلیغ کے سلسلے میں بھی وہ اس کثرت سے ہر جگہ تمام دنیا میں نازل ہورہے ہیں کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سلسلہ کتنا بابرکت اور مفید ثابت ہوگا۔ایک خاتون نے ایک نقشہ اپنے خط میں کھینچا ہے بہت ہی پیارا نقشہ ، و لکھتی ہیں : ”خدا کے فضل سے جب سے خطابات ٹی۔وی پر شروع ہوئے ہیں مسجد میں جاگ اٹھی ہیں، ( سبحان اللہ کتنا پیارا کلام ہے ،مسجد میں جاگ اٹھی ہیں۔خدا ہمیشہ ان کو جاگتا ر کھے ) چہروں پر شادمانی ہے، مربی صاحبان کے خطابات میں بھی جان پڑ گئی ہے۔وہ جو ایک دلی غم کی جھلک تھی چہروں پر کسی حد تک بلکہ کافی حد تک خوشی میں تبدیل ہو چکی ہے۔آپس میں ہر وقت یہی تذکرہ ہوتا ہے اس دفعہ حضور نے کیا فرمایا اور اب کیا حکم ہے۔ربوہ کے گھر اور گلیاں تو لگتا ہے کہ آپ کی آواز سے گونج رہی ہیں۔جب میں اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کو بتاتی ہوں تو حیرت سے دیکھتے ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے اور یہ مادہ پرست لوگ یقین نہیں کرتے کہ کچے مکانوں میں رہنے والے جن کے چہرے ربوہ کی دھول میں آٹے ہوتے ہیں ، جن کے گھروں میں دنیا کے تعیش کے سامان نہیں ہوتے ، یکا یک کیسے کا یا پلٹ گئی کہ وہاں لوگوں نے ڈش انٹینے خرید لئے اور سب سے معجزانہ بات جس کا مجھے بہت لطف آتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے ہم سال میں تین دن خلیفہ وقت کے خطابات سنا کرتے تھے ، اس کے لئے دور دور سے سفر کر کے آتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب بچے چھوٹے تھے اور ملازمت سے رخصت بھی بہت کم ملا کرتی تھی اس پر آمدنی کی کمی اور پھر ریل کی بکنگ الگ مشکل تو کراچی سے ہم بھاگم بھاگ جلسے کے لئے آیا کرتے تھے، سارا سال دعائیں کرتے تھے کہ خدا یا جلسے میں شمولیت کی توفیق دینا۔اب یہ حال ہے کہ مہینے میں چار بار جلسہ تو ویسے ہی ہو جاتا ہے اس پر رمضان المبارک میں درس القرآن الحمد لله ثم الحمد للہ کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ “