خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 261
خطابات طاہر جلد دوم 261 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء اندھیرے رستے میں حائل ہیں اور پھر خدا تعالیٰ توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ قادیان گئے ہیں۔فرمایا: ”اپنے دروازے کے سامنے کھڑے ہیں ایک عورت نے کہا۔السلام علیکم اور پوچھا کہ راضی خوشی آئے۔خیر و عافیت سے آئے“۔( تذکرہ: ۴۳۵) جب میں یہاں آیا تو بعض اسی قسم کی کثرت سے آواز میں اُٹھ رہی تھیں۔السلام علیکم، خیریت سے پہنچے ، راضی خوشی آئے۔راضی خوشی کا لفظ تو مجھے یاد نہیں لیکن خیریت سے پہنچے اس قسم کے کلمات خیر بار ہا عورتوں کی آواز میں میرے کان میں پہنچتے تھے۔ہر دفعہ میری روح خدا کے حضور سجدے کرتی تھی کہ خدا نے ہمیں وہ دن دکھایا جس کے وعدے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے آج سے تقریباً نوے برس پہلے کئے گئے تھے۔بہت سے ایسے الہامات ہیں میں ان کا ذکر چھوڑتے ہوئے چند ایک کا ذکر کر دیتا ہوں۔میں کسی اور جگہ ہوں اور قادیان کی طرف آنا چاہتا ہوں، ایک دو آدمی ساتھ ہیں۔کسی نے کہا راستہ بند ہے۔ایک بڑا بحر ذخار چل رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ واقع میں کوئی دریا نہیں بلکہ ایک بڑا سمندر ہے اور پیچیدہ ہو ہو کر چل رہا ہے جیسے سانپ چلا کرتا ہے۔ہم واپس چلے آئے کہ ابھی راستہ نہیں اور 66 ی راہ بڑا خوفناک ہے۔(تذکرہ : ۳۶۷) یہ واقعہ بھی گزر چکا ہے اس سے پہلے صد سالہ جشن کے موقع پر بھی ہمیں یہی تمنا تھی۔جائزے لئے گئے تو تمام طرف سے خود قادیان والوں نے بھی یہی لکھا کہ ابھی حالات سازگار نہیں ہیں اور حالات خطرناک ہیں۔پنجاب میں بھی امن نہیں ہے اس لئے آپ نہ تشریف لائیں جبکہ میری دلی خواہش یہ تھی کہ میں آؤں تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رویا بھی بڑی شان کے ساتھ پورا ہو چکا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً فرمایا:۔إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلى مَعَادٍ ( تذکره: ۲۵۷) وہ خدا جس نے قرآن کریم پر عمل کرنا تیرے لئے فرض قرار دیا ہے وہ لازماً تجھے اپنے وطن کی طرف اس آخری مستقل قیام گاہ کی طرف واپس لے کر آئے گا۔اِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيكَ بَغْتَةً۔يَاتِيكَ نُصُرَتِي۔