خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 247

خطابات طاہر جلد دوم 247 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء بھارت کی نجات تمہارے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے اور اگر آپ سارے بھارت کو اسلام کے پر امن پیغام کی رونق سے بھر دیں گے، اگر آپ آج تمام بھارت کو اسلام کے عالمگیر امن کے لواء کے نیچے اکٹھا کر دیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تمام دنیا کی قوموں کا امن آپ سے وابستہ ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ جلسوں کی برکت سے بعض اور برکتیں بھی ہمیں عطا فرمائی ہیں، جلسے کی کوکھ سے ایک نمائش کا نظام بھی پھوٹا ہے اور تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کی ترقی اور تبلیغ اور جماعت احمدیہ کے پھیلاؤ کے نقشے مختلف رنگ میں کتابی صورتوں میں بھی اور تصویری زبان میں بھی اور صوتی زبان میں بھی ان نمائشوں میں پیش کئے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ نمائشیں جگہ جگہ بے حد مقبول ہورہی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان میں بھی پیغام حق پہنچانے کے لئے ان نمائشوں سے جس حد تک توفیق ملے استفادہ کرنا چاہئے کیونکہ وہ لوگ جن کو آپ محض تبلیغی لٹریچر دیتے ہیں وہ پوری طرح جماعت کی اہمیت کولٹر بیچر سے نہیں سمجھ سکتے ان کو پتا نہیں آپ کون ہیں۔ان میں سے لاکھوں، کروڑوں ایسے ہیں جنہوں نے احمدیت کا نام بھی نہیں سنا ہو گا یا سنا ہے تو سرسری طور پر ان کو احمدیت سے روشناسی کی خاطر اُن نمائشوں میں لانا چاہئے۔جن جن ممالک میں ان نمائشوں سے استفادہ شروع ہوا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی امید افزاء رپورٹیں وہاں سے ملتی ہیں۔ہندوستان میں بھی بعض علاقوں میں ان نمائشوں سے بڑا فائدہ اُٹھایا گیا۔پس ان نمائشوں کو ہمارے جلسہ سالانہ کا اب ایک مستقل حصہ بن جانا چاہئے۔پچھلے دنوں اکرا (غانا) میں ایک نمائش کا افتتاح ہوا۔ڈائریکٹر آف انفارمیشن تشریف لائے ہوئے تھے۔اُس نمائش کو دیکھنے کے بعد ان کے جور یمارکس تھے وہ یہ ہیں کہ: اس حیرت انگیز ترقی کو دیکھ کر یہ کہنا بالکل سچ ہے کہ آپ کی جماعت سوسال نہیں بلکہ پانچ سو سال پرانی ہے“۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس تیز رفتاری سے جماعت اب دنیا بھر میں آگے بڑھ رہی ہے۔مجھے یقین ہے کہ آئندہ چند سالوں میں آنے والے یہ نہیں کہا کریں گے کہ سوسال نہیں بلکہ پانچ سو سال پرانی ہے وہ یہ کہا کریں گے کہ سو سال نہیں بلکہ ہزار سال پرانی ہے مگر میری نظر اس سے بھی پہلے پر ہے۔میرے دل کی تمنا تو چودہ سو سال پہلے جانے کے لئے تڑپتی ہے۔میرے دل کی خواہش یہ ہے