خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 246
خطابات طاہر جلد دوم 246 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء احمدیت کا پیغام پھیلانے میں تم سے آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو بہت ہی بڑی بدنصیبی ہوگی۔خدا تعالیٰ نے احمدیت کے پیغام کے لئے حضرت اقدس محمد لے کے جانشین کو قادیان کی بستی میں مامور فرمایا اور ہندوستان کی سرزمین کو یہ اعزاز بخشا تھا چاہئے کہ اس اعزاز کو ہمیشہ آپ زندہ رکھیں ، ہمیشہ اپنائے رکھیں اور کسی دوسرے کو اجازت نہ دیں کہ اس اعزاز کا جھنڈا وہ آپ کے ہاتھوں سے چھین کرغانا میں گاڑ دے یا نائیجیریا میں گاڑ دے یا گیمبیا میں گاڑ دے یا جرمنی میں گاڑ دے یا امریکہ میں یا دور افریقہ یا مشرق کے دوسرے ممالک میں گاڑ دے۔یہ آپ کی سعادت ہے اسے اپنے بازو اور سینے سے چمٹائے رکھیں۔یہ وہ جھنڈا ہے جس کی خاطر جان بھی دینی پڑے تو جان دینی کوئی نقصان کا سودا نہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ نے ایک بار ایک سریہ پر اپنے ایک غلام کو جھنڈ استھمایا اور اُن کو اس جھنڈے سے ایسا پیار ہوا اُس کی ایسی عظمت اُن کے دل میں جانشین ہوئی کہ جب ایک وقت آیا کہ حملہ آوران تک پہنچا اور ان کا وہ بازو کاٹ دیا جس میں انہوں نے جھنڈا پکڑا ہوا تھا تو انہوں نے دوسرے بازو میں اس کو تھام لیا۔پھر ایک اور ریلا آیا اور ایک حملہ آور نے اُن کا وہ باز و بھی کاٹ دیا۔اس جھنڈے کو انہوں نے دانتوں میں دبایا اور سینے کے ساتھ اپنے کٹے ہوئے بازوؤں میں لپیٹ لیا اور نہیں چھوڑا جب تک خدا تعالیٰ کے حضور وہ حاضر نہیں ہو گئے۔پس وہ جھنڈا جو حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے اعتماد کے ساتھ اپنے پیارے غلام کو عطا کیا تھا دیکھیں اُس کی اُن کے دل میں کیسی تو قیر تھی ، کیسی عظمت تھی ، کیسا اس کا عشق اور کیسی محبت تھی۔آج خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی غلامی کا جھنڈا ہندوستان کو عطا فرمایا ہے۔آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کے احیائے نو کا جھنڈا ہندوستان کو عطا فرمایا ہے۔آج لوائے احمدیت قادیان کی نشانی بن چکا ہے۔لوائے قادیان اور لوائے احمدیت ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں اور یہی لوائے اسلام ہے جو آئندہ تمام عالم پر لہرائے گا اس کو کیوں آپ اپنے سینے سے چمٹا کر نہیں رکھتے ؟ کیوں اس سعادت کو دوسروں کو لے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔پس اے بھارت کی جماعتو! میں تمہیں بار بار بڑے بجز اور انکسار کے ساتھ اس اہم فریضے کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔اُٹھو! اور شیروں کی طرح دندناتے ہوئے غازیوں کی طرح فتح کے ترانے گاتے ہوئے تمام بھارت میں پھیل جاؤ کیونکہ آج