خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 244
خطابات طاہر جلد دوم 244 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۹۱ء بٹالے سے مولوی محمد حسین صاحب کا حال تو معلوم کریں کہ ان کا نام ونشان وہاں ہے بھی کہ نہیں۔جنہوں نے قادیان کا نام ونشان مٹانے کے لئے اپنی زندگی مٹار کھی تھی آج ان کا نام لیوا کوئی بٹالہ میں موجود ہے کہ نہیں؟ چنانچہ اس غرض کے لئے میں نے عزیزم ہادی علی کو یہاں کے کچھ مقامی دوستوں کے ساتھ خاص طور پر بٹالے بھجوایا کہ سارے بٹالہ میں پھر کر ذاتی طور پر لوگوں سے ملیں ،عوام سے ملیں اور بڑے آدمیوں سے بھی ملیں اور معین طور پر سوال کریں کہ کیا آپ کسی صاحب کو جن کا نام مولوی محمد حسین بٹالوی تھا جانتے ہیں؟ آپ نے کبھی ان کا نام سنا آپ کو کچھ واقفیت ہے کہ اُن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں مخالفت کا کیا حال تھا؟ اُن کا جماعت کے معاملے میں کیا رویہ تھا؟ اس قسم کے سوالات کر کے اُن سے پتا کریں۔سارا دن بٹالے پھرتے رہے لیکن کسی ایک شخص کو بھی خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو مولوی محمد حسین کے نام کا پتا نہیں تھا اور ایک بھی نہیں تھا جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام نہ آتا ہو۔آخر جب زندوں میں یہ اُن کا نام تلاش کرنے میں ناکام رہے اور مایوس ہو گئے تو ان کو خیال آیا کہ کیوں نہ مولوی محمد حسین صاحب کے قبرستان جا کر وہاں کتبے پر ان کا نام پڑھا جائے۔چنانچہ جب قبرستان کی تلاش کی گئی تو اُس قبرستان کا کوئی وجود کہیں دکھائی نہ دیا گویا وہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا تھا۔اس تلخ حقیقت کو جاننے کے بعد جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرت کا ایک عظیم نشان ہے یہ اُس دفتر پہنچے جہاں تمام قبرستانوں اور مساجد اور مندروں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے یعنی وقف کا دفتر اُس کے سربراہ سے ملے اور اُس سے انہوں نے پوچھا کہ ہمیں زندوں میں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آیا ، ہم اُس قبرستان کی تلاش میں ہیں جس میں مولوی صاحب دفن تھے۔انہوں نے اپنا سارا ریکارڈ دیکھا۔انہوں نے کہا نہ وہ قبرستان آج صفحہ ہستی پر موجود ہے نہ ہمارے ریکارڈ میں اس کا ذکر موجود ہے۔کتنا عظیم الشان خدا تعالیٰ کی طرف سے عبرت کا نشان ہے۔آج آپ جو دنیا بھر سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شیدائی اور صداقت کے گواہ بن کر یہاں پہنچے ہیں۔آپ سب گواہ ہیں کہ مسیح موعود سچے تھے اور آپ کے مخالفین جھوٹے تھے۔صرف دوسروں کی گواہی پر اکتفا نہیں کرتا۔اب میں گواہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے نواسے کی آپ کے سامنے رکھتا ہوں، ان کا نام ڈاکٹر شیخ محمد سعید صاحب ہے۔وہ تقسیم ہندو پاکستان کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ