خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 222
خطابات طاہر جلد دوم 222 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء کھول کر رکھ دیا ہے۔پس اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہتے ہوئے جب آپ اس مضمون میں ڈوبیں گے تو کتنے کتنے نئے عالم آپ کے سامنے ابھرتے چلے جائیں گے اور جتنے عالم آپ کے سامنے ابھریں گے اتنا آپ کے شعور کا دائرہ بڑھتا چلا جائے گا۔اسی عالم سے نئے عالم پیدا ہوں گے یہاں تک کہ آپ عالمین کا وہ تصور اگر پانہیں سکتے تو اس تصور کی طرف ہمیشہ بڑھتے رہیں گے جس تصور کے تابع حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ قرار دیا گیا اور جس تصور کے تابع اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ نے ہمیں خدا کی عالمی ربوبیت کا پیغام دیا ہے۔اس ضمن میں خدا تعالیٰ نے جو آسان رستے ہمارے لئے تجویز فرمائے ہیں ان رستوں کا ان آیات کریمہ میں ذکر ہے جن کی تلاوت کی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ سب سے پہلے یہ فرماتا ہے کہ یہ کام انفرادی طور پر کرنے والا نہیں کیونکہ اجتماعیت کا مضمون ہے۔اس میں بحیثیت جماعت تم کو ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ایک فرد واحد کا کام نہیں ہے کہ وہ تقویٰ کے حق ادا کر سکے یہ وسیع جماعتی کام ہیں۔فرمایا وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ( آل عمران :۱۰۴) اگر تم نے تفرقہ اختیار کیا تو تمہارا انفرادی تقویٰ کسی کام کا نہیں رہے گا اور وہ تقویٰ ہوگا نہیں ، اس حالت میں اگر تم مرو گے تو جان لو کہ تم مسلم ہونے کی حالت میں نہیں مررہے کیونکہ تقویٰ کا حق ادا کرنے والے نہیں ہو گے۔تقویٰ کی تعریف کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اللہ کی رسی کو اجتماعی طور پر تھام لو، انفرادی طور پر نہیں۔پس وہ مسلمان جو آج احمدیوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم تو بہت اچھے مسلمان ہیں، ہم نیک بھی ہیں، ہم نمازیں پڑھتے ہیں، ہم درود وسلام بھیجتے رہتے ہیں۔ظاہری طور پر وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم بدیوں سے پاک ہیں، اچھے مسلمان ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے جماعت احمدیہ کی کیا ضرورت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تسلیم کرنے کی؟ اس کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا کیا واقعی اجتماعی طور پر تم نے خدا کی رسی پر ہاتھ ڈالا ہوا ہے کیا تمہیں اجتماعیت نصیب ہوگئی ہے، کیا تم ایک ہاتھ پر ا کٹھے ہو چکے ہو؟ اگر نہیں! تو پھر تفرقے کی حالت میں مرنا تقویٰ کی حالت میں مرنا نہیں ہے۔یہ نہ تقویٰ ہے نہ اسلام ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ کی بہت سی تفسیر میں ہیں لیکن ایک تفسیر یہ ہے کہ