خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 221
خطابات طاہر جلد دوم 221 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۱ء پس خدا کی سمت اپنا چہرہ کر دیں اور ہمیشہ خدا کے چہرے کی طرف اپنا رخ رکھیں۔جب اس طرح آپ سفر اختیار کریں گے تو پھر آپ کو حمد کا مضمون سمجھایا جائے گا ،حمد کا مضمون آپ کے وجود میں جاری کیا جائے گا۔تب آپ بنی نوع انسان کو حمد سکھانے کے قابل بنائے جائیں گے ، آپ کو یہ توفیق عطا فرمائی جائے گی کہ آپ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے مضمون کو اُس نقطۂ معراج صلى الله تک پہنچادیں جس نقطۂ معراج تک پہنچانے کے لئے بنی نوع انسان کو پیدا کیا گیا تھا۔آنحضرت علی ان معنوں میں آخری نبی ہیں اور اے آخرین کی جماعت! ان معنوں میں تم آخری جماعت ہو جن کے سپرد یہ عظیم کام سونپا گیا ہے اس لئے اس مضمون کو قران کریم کی روشنی میں سمجھتے ہوئے بڑی گہرائی سے اس کا مطالعہ کرتے ہوئے اس مضمون کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اگر آپ آگے بڑھتے چلے جائیں گے تو یقین کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ سہرا آپ کے سر پہ لٹکائے گا، یہ سہرا آپ کو عطا فرمائے گا لیکن یہ سہرا آپ کا نہیں ہوگا۔اس سہرے کا تعلق صرف اور صرف حضرت محمد مصطفی مے سے ہے، آپ کے قدموں کے طفیل آپ کے سروں کو زینت بخشی جائے گی اور آپ کی حمد کے ذریعے وہ حمد جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے خدا تعالیٰ کی کی ، ویسی حمد کے ذریعے آپ کو محمود بنایا جائے گا اور آپ کو مقام محمودیت عطا کیا جائے گا۔اس پہلو سے ہمیں ابھی دنیا میں بہت سے کام کرنے ہیں مگر ایک ایک قطرے کی درستی ضروری ہے، ایک ایک قطرے کا مزاج درست کرنا ضروری ہے۔یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ اس کے تصور سے دل ہول کھانے لگتا ہے، دل ڈولنے لگتا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس کا حق ادا کریں۔جب انسان اس پہلو سے اپنی ذمہ داریوں کو سوچتا ہے تو اس کا سارا وجود لرز اٹھتا ہے اور حَقَّ تُفتِهِ کا ایک اور مضمون اس کے لئے ظاہر ہوتا ہے۔صرف اپنے وجود کو نہیں بچانا بلکہ غیروں کو بھی بچانا ہے۔صرف اپنے دائرہ اختیار میں خدا کی بادشاہت کو قائم نہیں کرنا بلکہ اس سے باہر کے دائروں میں بھی خدا کی بادشاہت کے دائرے کو بڑھاتے چلے جانا ہے یہاں تک کہ تمام عالم خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہو جائے۔یہ وہ مضمون ہے جسے حضرت عیسی نے اپنے رنگ میں بیان فرمایا لیکن اس مضمون کو قرآن کریم نے کامل فرما دیا اور سورۃ فاتحہ نے اس کو اپنی پوری شان کے ساتھ ہمارے سامنے