خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 207

207 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء خطابات طاہر جلد دوم کی تاریخ یہی ہے۔کہتے ہیں! ایک دفعہ انگریزوں کی حکومت کے دوران ایک نمبر دار صاحب کو خیال آیا کہ سور و پیہ جو مالیہ کا میں نے پیش کرنا ہے ڈی سی کے سامنے اس میں سے ایک روپیہ اگر میں بچالوں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ہو سکتا ہے میں کہوں گا صرف ایک ہی روپیہ کم ہے وہ صاحب مجھے معاف کر دے گا، مگر انگریز ریونیو کے معاملے میں بڑے خطرناک اور بڑے کنجوس اور سخت مزاج تھے۔اس نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ سرکار میں نانوے روپے لے آیا ہوں ایک روپیہ رہ گیا ہے آپ مجھے معاف کر دیں۔انہوں نے کہا روپیہ تو معاف نہیں ہوسکتا، سرکار کی چیز ہے اس لئے اس کی سزا ملے گی۔اس نے کہا اچھا پھر حضور سزا سنادیں۔انہوں نے کہا ایک سو جوتے کھاؤ۔اس نے کہا میں عزت دار آدمی، نمبر دار آپ ہی کا بنایا ہوا اتناظلم تو نہ کریں ، سو جوتے نہیں میں کھا سکتا مجھے سو پیاز یعنی گنڈے کہا اس نے ، سو گنڈے کھلا دومینوں۔انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے پھر سو پیاز اس کو کھلا ؤ۔چند پیاز کھائے تھے آخر انسان تھا کوئی گدھا نہیں تھا، گو حرکت گدھوں والی تھی بیزار ہو گیا آنکھوں سے آنسو جاری برا حال اس نے کہا دیکھو صاحب میں آخر انسان ہوں، میں گنڈے نہیں کھا سکتا لا ؤ جو تیاں جتنی مارنی ہیں مارلو، آٹھ دس جو تیاں پڑی تھیں تو پھر وہ گھبرا گیا اس نے کہا دیکھیں میں شریف وضع دار انسان ہوں، لائیں گنڈے واپس لائیں۔چنانچہ دس بارہ گنڈے پھر کھائے ، پھر دس بارہ جو تیاں کھائیں، پھر دس بارہ گنڈے کھائے ، پھر دس بارہ جو تیاں کھا ئیں۔کہتے ہیں جب نانویں جوتی پڑ رہی تھی تو پگڑی کھل گئی اس نے جس میں احتیاطاً وہی روپیہ سنبھال کے رکھا ہوا تھا۔فورا لپکا اور روپیہ اٹھا کر کہا! لو پھڑو اپنارو پیش شکر ہے عزت رہ گئی۔پس اس طرح یہ قوم اپنی عزتیں بیچارہی ہے۔کہتے ہیں اے فوج! دوبارہ ہماری عزت بچانے کے لئے آ، اور فوج کے چند سال دیکھیں گے پھر کہیں گے اے سیاستدانو! آؤ ہماری عزت کو بچالو۔اس سے زیادہ درد ناک حال تاریخ میں شاید پہلے کبھی کسی قوم کا نہ ہوا ہو اور اس سے زیادہ سفا کی کے ساتھ کسی قوم نے اپنے وقت کے امام کی تکذیب بھی کبھی نہیں کی۔اس لئے ایک ہی راہ ہے اور صرف ایک راہ ہے کہ یہ تو بہ کریں اور اگر موت آ بھی گئی ہوگی تو میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ احمدیوں کی دعاؤں سے ان کی موت ٹل جائے گی اور یہ ملک بچ جائے گا۔