خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 189

خطابات طاہر جلد دوم 189 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء اسی طرح روز مرہ کی زندگی میں احمدی خطرات میں سے اس طرح گزررہے ہیں کہ ان کی روزمرہ کی زندگی اور خطرات میں کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔ہر قدم جو وہ اٹھاتے ہیں وہ دشمن کی نظر میں مغضوب بنتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ اپنی تکلیف کا اظہار مجھ سے کرتے ہیں، خطوط میں اپنے واقعات لکھتے ہیں۔میری دلداری ان کو کیا سہارا دے گی قرآن کریم کے اس کلام پر نظر رکھیں جس میں خدا تعالیٰ ان ہی واقعات کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہر وہ قدم جو تم خدا کی خاطر اٹھاتے ہو اور دشمن کی نظر میں مغضوب بنتے ہو، ہر اسی قدم کی وجہ سے تم خدا کی نظر میں محبوب بنتے چلے جاتے ہو۔اس لئے اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھیں اور یہی ان کا سہارا ہے۔دشمن کی نظر کے سامنے، دشمن کی حقارت آمیز نظروں کے سامنے خدا کے پیار کی نظر اتنی عظمت رکھتی ہے کہ اس دشمن کی حقارت کی نگاہوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ اغم اغیار کا درین صفحہ ۱۰) پس اگر غم اغیار کے جھگڑے کاٹنے ہیں تو یہی نسخہ استعمال کریں، خدا کے پیار کی نگاہیں حاصل کریں اور یقین جانیں کہ وہ تیغ تیز تمام اغیار کے جھگڑوں کو اس طرح کاٹ کر پھینک دے گی کہ ان اغیار کے جھگڑوں کی کوئی حیثیت کوئی قیمت بھی باقی نہیں رہے گی۔پھگلہ میں ہمارا ایک بہت ہی معزز سید خاندان ہے، وہ معزز ان معنوں میں نہیں کہ محض سید ہیں بلکہ ان کی نیکی ، ان کی شرافت کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سے گاؤں پر ان کا بہت ہی زیادہ اثر ہے اور ہمیشہ عزت اور احترام سے دیکھے جاتے تھے۔وہاں اس دور میں مولویوں نے شرارت شروع کی، گندا چھالنا شروع کیا یہاں تک کہ گاؤں والوں کی نظریں بدلنے لگیں اور ان کی مسجد بھی جلا دی ، ان کے گھر بھی جلا دیئے۔اس واقعہ کے بعد ان میں سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ستیدی! یہ عاجز ۳ / جولائی کو ربوہ سے اہل خانہ کو پھگلہ لے آیا تھا، جلے ہوئے مکان کی حالت تو کافی خراب تھی اور حالات بھی درندہ صفت مولوی نے کافی خراب کئے ہوئے تھے لیکن ان کی یہ خوشی کہ یہ بھاگ گئے ، ہرگز قبول نہ