خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 181

خطابات طاہر جلد دوم 181 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء رہتا ہے اور نہ صرف ذکر الہی کی خاطر ا کٹھے ہونے والے احمدی مسلمان خدا سے برکت پاتے ہیں بلکہ ان کی معیت میں آنے والے لوگ بھی خدا تعالیٰ سے برکت پاتے ہیں اور جہاں تک تکلیفیں اٹھانے کا تعلق ہے یہ مضمون بھی ایسا ہے جو تمام دنیا میں برابر جاری ہے۔ابھی چند دن پہلے سیرالیون کے سالانہ جلسے کی رپورٹ پہنچی تو معلوم ہوا کہ سیرالیون میں چونکہ آج کل شدید اقتصادی بحران ہے اور بعض لوگوں کو بمشکل دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اکثریت کو بمشکل ایک وقت کی روٹی میسر آتی ہے کیونکہ افریقہ میں بالعموم عوام الناس کو اگر چوبیس گھنٹے میں ایک وقت کا کھانا بھی مل جائے تو وہ اس کو غنیمت سمجھتے ہیں اور خدا سے راضی رہتے ہیں۔اس کے باوجود ڈور ڈور سے جلسے میں شرکت کرنے والے آئے جنہوں نے سارا سال پیسے جوڑ جوڑ کر اس دن کے لئے بچار کھے تھے اور جن کو سفر کی سہولت مہیا نہیں ہوئی کیونکہ صرف روپے کی قلت نہیں بلکہ پٹرول کی قلت کی وجہ سے بہت سے علاقے ایسے ہیں جو بسوں کی سروس سے ہی محروم ہو چکے ہیں وہ دور دراز کا پیدل سفر کر کے اس جلسے میں شرکت کے لئے حاضر ہوئے۔ان میں سے دوعورتوں کا خصوصیت کے ساتھ انہوں نے دعا کی غرض سے ذکر کیا اور اس دعا میں میں آپ کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون جو اسی برس سے متجاوز تھیں اس جلسے میں شمولیت کے لئے ساٹھ میل کا پیدل سفر کر کے پہنچی ہیں اور اسی طرح بعض خواتین اپنی پیٹھوں پر بچے باندھے ہوئے اتنی استی میل کا پیدل سفر کر کے اس جلسے میں شمولیت کے لئے پہنچی ہیں۔اب جہاں تک دنیا کے نظام کا تعلق ہے نہ تو کسی ریڈیو نے ان کی خبر دی، نہ ٹیلی ویژن پر وہ لوگ دکھائے گئے، نہ ہی اخبارات میں ان کے چرچے ہوئے۔وہ آئے اور بظاہر ان کا آنا بھلا دیا گیا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہمارے آقا و مولا سید نا حضرت اقدس محمد مصطفی میلہ کی یہ بات یقینا کچی ہے کہ خدا کے فرشتے یقیناً اس مقام پر نازل ہوئے ہوں گے اور یقیناً انہوں نے خدا سے ان پاک بندیوں کا ذکر کیا ہوگا کہ محض تیرے ذکر میں شامل ہونے کی خاطر یہ دُور دُور سے مشقت اٹھا کر یہاں پہنچیں۔اسی قسم کے کچھ لوگ آج بھی پاکستان سے تشریف لائے ہیں بظاہر ان کے یہاں آنے کی کوئی وجہ اور کوئی حکمت سمجھ نہیں آتی کیونکہ عمر کے لحاظ سے اس حد کو پہنچ چکے ہیں کہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانا بھی مشکل ہے۔ان میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک