خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 171
خطابات طاہر جلد دوم 171 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء گئیں اور بعد میں ڈھیریاں بنا بنا کر سامان کو آگ لگائی گئی۔پھر سارے گھر کو آگ لگائی گئی اور یہ دیکھا گیا کہ کوئی چیز بھی ایسی بیچ نہ جائے جونذر آتش نہ ہو۔کہتی ہیں اس وقت میری یہ حالت تھی کہ میں پھر جب گھر پہنچی ہوں تو جو آگ سلگ رہی تھی اس پر میں نے دیچی سے پانی بھر بھر کر ڈالنے شروع کئے اور دوپہر کا وقت ہو گیا۔ڈیڑھ بج گیا میں وضو کرنے بیٹھ گئی جب میں نے وضو کرتے ہوئے کلمہ پڑھا تو جو لوگ ارد گرد تماش بین اکٹھے تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ کلمہ تو ہمارا ہی پڑھ رہی ہے۔یہ عجیب بات ہے اس قدر جھوٹ بولا گیا ہے پاکستان میں اس قدر نفرت کی ہوائیں چلائی گئی ہیں کہ جوار دگر درہنے والے ہمسائے ہیں وہ بھی یہ یقین کر بیٹھے ہیں کہ گویا نعوذبالله من ذالک احمدیوں کا کلمہ اور ہے۔کہتی ہیں کہ اسوقت میرا عبر کا بندھن ٹوٹ گیا محلے والے لوگ میرا حشر دیکھ رہے تھے کس وقت صبر کا پیمانہ ٹوٹا یہ اور واقعہ ہے۔ہھتی ہیں کہ اس وقت ملبے میں تلاشی لے رہی تھی کہ کوئی چیز بچی ہو تو جلے ہوئے قرآن کے ٹکڑے نظر آئے اس وقت میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا۔محلے والے میرا حشر دیکھ رہے تھے اور میرے منہ پہ یہی جملہ تھا کہ لوگو مجھے سامان کی پرواہ نہیں مجھ سے یہ قرآن مجید کا حشر نہیں دیکھا جارہا۔محلے والے لوگ بھاگم بھاگ میری آواز پر دوبارہ اکٹھے ہو گئے ان کی موجودگی میں ایک اور تاج کمپنی کا قرآن کریم بھی اسی طرح جلا ہوا ملا۔یہ اپنے گھر بچوں کو تعلیم دیا کرتی تھیں۔غیر احمدی بچے بھی پڑھنے آتے تھے اس لئے وہ بتارہی ہیں لمبی کہانی ہے کہ کس طرح غیر احمدی بچوں کے چھوڑے ہوئے قرآن مجید بھی جب انہوں نے جلے ہوئے دیکھے تو پھر وہ سارے گاؤں میں سارے قصبے میں وہ خود وہ قرآن لے کے پھرے کہ یہ ایسے ظالم لوگ ہیں کہ قرآن کے جلنے کا بہانہ بنا کر یہ خود قرآن جلانے والے ہیں۔جشن تشکر جہاں جہاں منایا گیا اس کی بھی سزائیں جماعت احمدیہ کودی گئیں اور جماعت احمد یہ نے مختلف علاقوں میں اس جشن تشکر کی قیمت ادا کی ہے۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ہم جب مسجد سے جہاں کھانے کا انتظام تھا کیونکہ باہر تو کچھ تقسیم کرناممکن نہیں تھا۔جب روانہ ہونے لگے تو ایک دوست نے کہا کہ میں نہیں آسکتا کچھ چاول ہمارے گھر کے لئے بھی لیتے آنا ہم نے بالٹی میں کچھ چاول ڈالے اور موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے۔باہر ا کرم طوفانی کے غنڈے نے ہمیں چلتے موٹر سائیکل سے دھکا دیا اور ساتھ ہی شور مچانے لگا کہ قادیانی کافر اپنے مندر سے چاول لے کر مسلمانوں میں تقسیم