خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 127

خطابات طاہر جلد دوم 127 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۷ء تمام مذاہب کی خدمت کرنے والے ہیں اور خدا پر بچے ایمان اور اعتقاد کی حفاظت کرنے والے ہیں۔قرآن کریم اس سے آگے بڑھتا ہے اور حیرت انگیز و عظیم الشان حوصلے کا مظاہرہ فرماتا ہے، فرمایا: اِنَّ الَّذِينَ امَنُوا وَ الَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرِى وَالصَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقره:٦٣) کہ دیکھو وہ لوگ جو ایمان لائے، یعنی حضرت محمد مصطفی علی کے دعاوی پر ایمان لانے والے وَالَّذِينَ هَادُوا اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو یہودی کہلاتے ہیں و النصری اور نصاری یعنی عيسائى والطببین اور ایسے تمام دیگر مذاہب کے ماننے والے اور وہ لوگ جو کسی نہ کسی الہی کتاب کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔صابی عرب میں ان مذاہب کو کہا جاتا تھا جو معروف اہل کتاب کے علاوہ دیگر کتب کی طرف منسوب ہوتے تھے۔فرمایا مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ان میں سے جو بھی حقیقتاً کامل سچائی کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور یوم آخر پر ایمان لاتا ہے، نیک اعمال بجالاتا ہے فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ان کا اجر ان کے رب پر ہے وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ان پر کوئی خوف نہیں ہے اور انہیں غم کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔س تفصیلی بحث میں میں یہاں نہیں پڑتا کہ اس مضمون کا اس دوسری آیت کے مضمون سے کیا تعلق ہے کہ اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَاهُ (آل عمران: ۲۰) کہ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔اس مضمون پر میں اس سے پہلے جلسہ سالانہ ہی کی ایک گزشتہ تقریر میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا کی کسی کتاب میں اس مضمون کی آپ کو کوئی آیت دکھائی نہیں دے گی جہاں یہ بتایا گیا ہو کہ اگر تم اپنے ایمان میں خالص ہو اور حقیقتاً خدا پر ایمان لانے والے ہو اور اپنے تصور کے مطابق عمل صالح بجالانے والے ہو اور حساب کے قائل ہو، جانتے ہو کہ ایک دن آخرت کے روز تم خدا کے حضور پیش کئے جاؤ گے اور اس Accountability principle یعنی جواب طلبی کے اصول پر تم اپنے اعمال کی نگرانی کرتے ہو تو تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی۔اس سارے مضمون میں کسی مذہب کا کوئی نام نہیں لیا گیا۔صاف معلوم ہوتا کہ یہ ایک عام وسیع تر انسانی اصول ہے جس کے اوپر تمام دنیا کے انسان پر کھے