خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 105

خطابات طاہر جلد دوم 105 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء مظلوم احمدی بھائیوں کے لئے دُعا کی تحریک کرتا ہوں جو بڑے ارمانوں کے ساتھ ، بڑے شوق سے، بڑے لمبے عرصے تک غربت کے باوجود پیسے جمع کر کے اس جلسے میں حاضر ہونے کے لئے نکلے تھے لیکن ہم تک نہیں پہنچ سکے۔اللہ اُن کے حال پر بھی رحم فرمائے ، ان کی نیک تمناؤں کو قبول کرے، اُن سے بڑھ کر اُن کو ثواب دے جو یہاں پہنچ سکے ہیں تا کہ اُن کی حسرتیں پوری ہو جائیں اور اُن لوگوں پر بھی رحم کرے جو ناحق خدا کے بندوں پر ظلم کر رہے ہیں۔اُن کو کوئی حق نہیں اور بڑی دلیری کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں، یہ کارندے حکومت کے جنہوں نے ایسا کیا یہ بھی مجبور تھے کیونکہ جہاں تک میر اعلم ہے یہی لوگ پہلے آنے والے احمدیوں سے شریفانہ برتاؤ کیا کرتے تھے لیکن معلوم ہوتا ہے اتنی سختی سے حکومت کی طرف سے اُن کو ہدایت ہے اور ایسی کڑی نگرانی کی جارہی ہے کہ اگر وہ اس ظلم میں شریک نہ ہوں تو پھر اُن کو اپنی نوکریوں کا خطرہ ہے، اپنی عزتوں کا خطرہ ہے، اپنی ترقیات کا خطرہ ہے۔پاکستان کی حکومت کا یہ الزام ہے کہ احمدی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، قطعاً جھوٹ اور بے بنیاد الزام ہے۔میں نے تو اُن احمد یوں کو بھی جن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور تمام دنیا میں مختلف ممالک میں پھیلے پڑے ہیں ، ان کو بھی بارہا یہی نصیحت کی ہے کہ ہر چند کہ پاکستان کی موجودہ آمرانہ حکومت نے احمدیوں پر، ان کے بھائیوں پر بڑے مظالم کئے تب بھی اُن کے لئے بددعا نہ کریں، ان کے لئے برا دل میں نہ بٹھا ئیں اور جہاں تک ممکن ہو، جہاں تک اللہ تو فیق عطا فرمائے اُن کی بہبود کے لئے دعا کریں اگر اور کچھ نہیں تو اتنا سوچیں کہ آپ تک جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا دین پہنچایا گیا اور اندھیروں سے نور کی طرف آپ کو بلایا گیا تو وہ پاکستان کی سرزمین سے آنے والے دیوانے ہی تو تھے جنہوں نے یہ کام کیا۔اس لئے آپ پاکستانی نہ سہی کم سے کم پاکستان کی سرزمین کا یہ حق آپ پر ضرور ہے کہ اُن کے لئے اچھا سوچیں اور بھلا چاہیں۔میں تو یہ نصیحت کرتا ہوں۔اگر جماعت احمدیہ کو میں اجازت دیتا اگر چہ پاکستان کی جماعت اپنے قانون کی پابند ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہمارے بنیادی اساسی دستور میں، ہمارے اساسی دستور میں یہ بات داخل ہے کہ جس ملک میں رہو اُس کی اطاعت کرو اور اُس کی قانون شکنی نہ کرو۔اس لئے اُن کو تو کسی قانون شکنی کی اجازت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن باہر کی جماعتوں کو تو میں اجازت دے سکتا تھا کہ اپنے غم وغصہ کو جس طرح چاہیں حکومت پاکستان کے