خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 102
خطابات طاہر جلد دوم 102 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء تشریف لائے ہیں جو مشرق کا آخری کنارہ کہلاتے ہیں اور ایسے دور دراز ملکوں سے بھی احمدی احباب اللہ کی محبت دلوں میں لئے ہوئے یہاں تشریف لائے ہیں جو مغرب کا آخری کنارہ کہلاتے ہیں اور ان جگہوں سے بھی آئے ہیں جہاں مشرق اور مغرب میں مابہ الامتیاز مشکل ہے جہاں مشرق مغرب سے گلے ملتا ہے دور دراز نجی کے جزائر جہاں سے Date Line گزرتی ہے، جہاں یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مشرق ہے اور یہ مغرب ہے، جہاں ایک قدم آپ کو مشرق میں پہنچا دیتا ہے اور دوسرا قدم آپ کو مغرب میں لے جاتا ہے۔وہاں سے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کا زندہ نشان بنے ہوئے احمدی اس جلسے میں حاضر ہوئے ہیں کہ: میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔( تذکرہ صفحہ ۲۶۰) اللہ کے فضل سے سب کا سفر کسی غیر معمولی حادثے کے بغیر خوشگوار گز را اور مختلف ملکوں سے آنے والوں نے جو رپورٹیں دی ہیں، جو اطلاعات پہنچائی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ان کی حکومتوں نے بھی ان سے تعاون کیا اور یہاں آنے پر انگلستان کی حکومت نے بھی ان سے تعاون کیا اور کسی قسم کی کوئی تکلیف پیش نہ آئی لیکن افسوس کہ ایک ملک ایسا ہے جو اسلام کے عظیم نام پر قائم کیا گیا تھا، جہاں سب سے زیادہ وسعت حوصلہ نظر آنی چاہئے تھی ، جو کسی علاقائی نبی کے غلام کہلانے کا دعویدار نہیں بلکہ اس کا غلام کہلانے کا دعویدار ہے جو رحمتہ للعالمین ﷺ تھا۔جس کی رحمتیں تمام جہانوں کے لئے تھیں، اپنوں کے لئے بھی تھیں اور غیروں کے لئے بھی تھیں، مردوں کے لئے بھی تھیں اور عورتوں کے لئے بھی تھیں،انسانوں کے لئے بھی تھیں اور حیوانوں کے لئے بھی تھیں اور جمادات کے لئے بھی تھیں غرضیکہ ساری کائنات کے لئے اسے رحمت بنایا گیا تھا۔اس عظیم الشان نبی کی غلامی کا دم بھرنے والا یہ ملک جس کی وسعت حوصلہ کی کوئی مثال نظر نہیں آتی ، جس کی وسعت حوصلہ خدا تعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات کی وسعتوں کے ساتھ ہم آہنگ تھی اس ملک کے باشندوں نے اتنا حوصلہ بھی نہ دکھایا جتنا غیر مذاہب کی طرف منسوب ہونے والے ملکوں کے باشندوں نے دکھایا اور ان کی حکومتوں نے دکھایا۔پس اگر تکلیف کی کچھ باتیں آج میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تو تمام کی تمام بد قسمتی اور بدنصیبی سے پاکستان سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔عجیب خدمت اسلام کا ایک تصور وہاں قائم کیا جارہا ہے اور عجیب جوش و خروش کے ساتھ جاہلانہ طور پر اس تصور کو عمل کی دنیا میں ڈھالا جارہا ہے کہ