خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 70 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 70

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۴ء وہ ہے زندگی۔میں بتارہا تھا کہ آپ کیا ہیں آپ ایک زندہ ہیں دوسرا یہ جسم کا نظام ہے جس کے اندر ایک کائنات ہے یہ ایک چیز نہیں ہے۔جس کو طب مفرد کہتی ہے بلکہ یہ مرکب ہے اور مرکب بھی پتہ نہیں کن کن چیزوں سے ہے۔آپ کی انتڑیوں میں تو کروڑوں ایسی چیزیں ہیں کہ جب ڈاکٹر ایلو پیتھک دے کر انہیں مار دیتے ہیں یا اگر مار دیں تو آپ کھانا ہی نہیں ہضم کر سکتے۔ان خادم کیڑوں کی شکل میں آپ کی انتڑیوں میں کروڑوں کی تعداد میں آپ کے خادم موجود ہیں۔اب آجکل حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ باہر تو خدمت کرنے والا ملتا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا احسان دیکھو کہ کروڑوں کی تعداد میں وہ کیڑے آپ کا صرف یہ کام کرتے ہیں کہ کھانا ہضم کر دیں۔تو ہماری ذات جو ہے میری اور تم میں سے ہر ایک کی۔ایک ہے اس کی زندگی ، اور ایک ہے اس کی یہ حالتِ بقا۔اس کے اندر ایک بیلنس (balance) ہے ایک کائنات ہے جو کہ اس کے آپس بالکل صحیح اور درست تعلقات کا نام ہے ذرا سی خرابی ہو جائے جگر میں کلجنکشن (conjunction) ہو جائے تو سر دردشروع ہو جاتی ہے ، بے چینی ہو جاتی ہے، نیند اڑ جاتی ہے یہ خرابی ہو جائے تو آدمی تکلیف میں پڑ جاتا ہے۔قرآن کریم نے کہا کہ جو تمہیں پیدا کرنے والا خدا ہے وہ الحی القیوم ہے وہ زندہ بھی ہے۔وہ اپنی ذات میں زندہ ہے ، صرف وہی اپنی ذات میں زندہ ہے اور کوئی نہیں۔ہر غیر اللہ اپنی زندگی کے لئے اس کا محتاج ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر ایک سیکنڈ کے لئے الحی خدا کا تعلق کسی فرد واحد سے نہ رہے تو وہ فور مر جائے گا۔سیکنڈ تو کیا سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لئے بھی تعلق نہ رہے تو جان نکل جائے گی کیونکہ اس کی زندگی خدا کے ساتھ ، جی خدا کے ساتھ تعلق قائم رہنے کی وجہ سے قائم ہے ورنہ وہ زندہ نہیں رہ سکتا ، اور خدا تعالیٰ القیوم ہے مجھے اور آپ کو خالی زندگی تو نہیں نا ہے بلکہ آپ کی ذات کا ایک بیلنس اور توازن جو خدا تعالیٰ نے بنایا ہے وہ قائم رہنا چاہئے ورنہ تو زندگی زندگی ہی نہیں رہتی مثلاً ایک پاگل آدمی ہے کیا وہ زندہ نہیں ؟ خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھانے کے لئے ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ ایک زندہ ہے اور جا کے گندگی اٹھا کے بھی منہ میں ڈال لیتا ہے اور کھالیتا ہے ایسے پاگل بھی موجود ہیں اور ہم نے خود دیکھے ہیں پاگل خانوں میں ایسے پاگل ہیں جو ماں باپ کو نہیں پہچانتے اور پاگل خانوں سے باہر ایسے بھی پاگل ہیں جو اپنے پیدا کرنے والے