خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 53 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 53

خطابات ناصر جلد دوم ۵۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء سات سو دانے یا اس سے زیادہ بن جاتے ہیں لیکن یہ سات سو دانے بظاہر ایک دانے میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ ہمیں تو نظر نہیں آتے۔آپ عملاً بھی دیکھتے ہیں کہ کسی کی قسمت میں پچاس دانے ہوتے ہیں کسی کو سو اور کسی کو دوسو دانے ملتے ہیں اور کسی کو پانچ سو۔اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم بیج ڈال دو تو ہم زمین میں بیج ڈال دیتے ہیں اور ہمیں کچھ پتا ہی نہیں ہوتا کہ اس بیج سے کیا نکلے گا۔پھر وہ پیچ روئیدگی نکالتا ہے۔پھر جب وہ اپنی پوری شکل بنا تا ہے تو پھر یہ پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کتنا عظیم منصو بہ بنایا تھا ایک چھوٹے سے بیج سے اس نے ایک درخت بنایا تھا۔تب ہمیں پتا لگتا ہے کہ ہم واقع میں حقیقتالا شی محض ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمتیں ساتھ نہ ہوں تو ہم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا رحم شاملِ حال نہ ہو تو انسان کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں۔خدا کرے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہمارے شاملِ حال رہے۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )