خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 608
۳۷ چودھویں صدی کے ساتھ ہمارا، ہمارے ہر صدی نئے مسائل لیکر آتی ہے اور ان محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کا مسائل کے حل کے بطون قرآن ہیں ۴۵۹،۴۵۷ قرآن کریم کی تعلیم رب العالمین کی طرف بڑا گہرا تعلق ہے آنے والی صدی میں ہم نے اسلام کے سے آتی ہے تا کہ ہر زمانے کے مسائل کا ۴۵۹ حل کر دے حسن اور نور کو دنیا کے کونوں تک پہنچانا ہے آنے والی صدی میں ہم نے اپنوں کے بھی ہم پندرھویں صدی میں خدا تعالیٰ کے ۴۴۰ ۴۵۹ بڑے عظیم نشانوں کے دیکھنے کے لئے اور غیروں کے بھی دل جیتنے ہیں داخل ہو چکے ہیں آنے والی صدی میں وہ عمارتیں تعمیر کی ۵۲۶ جانے والی ہیں جن میں نوع انسانی بسیرا ظ، ع، غ ظلم کرے گی ۴۵۹ ظلم کی راہ سے کسی کو بدنی ایذاء پہنچانے کی پندرھویں صدی تو کیا اگر قیامت تک کی اسلام نے اجازت نہیں دی ساری صدیاں اللہ تعالیٰ کے احسانات پر ہم ظلم کا بدلہ ظلم سے نہ لو بلکہ تمہاے دل میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں پندرھویں صدی کا ماٹو۔محبت اور پیار حمد۔عزم ۴۶۰ ۴۶۱ بھی ان کے خلاف غصہ نہ رہے عالمی کسر صلیب کا نفرنس لنڈن عقل اس صدی میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد انسانی عقل خدا تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار قائم ہوگا اور اسلام ایک بھٹکتی ہوئی روح ہے جس کی کوئی منزل غالب آئے گا ۴۸۵ نہیں اس صدی میں اسلام غالب آئے گا دُنیا جو انسان کبھی بھی علم کے میدانوں میں اس کی چاہے جیسا چاہے کر لے جتنا چاہے زور لگا انتہاء تک نہیں پہنچ سکتا لے ہو گا وہی جو خدا چاہے گا ۵۱۰ چودہ صدیوں میں ہر صدی نے خدا تعالیٰ خشخش کے دانے کے متعلق بھی انسان کا علم کے عظیم نشان دیکھے ۵۲۵ اپنی انتہاء کونہیں پہنچ سکتا ۱۴۶ ۳۸۹ ۴۱۳ 1۔7 ۲۴۱ ۲۴۲