خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 564

خطابات ناصر جلد دوم ۵۶۴ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء اس وقت یہ ایمان رکھتا ہوں کہ آپ کے سروں پر ڈھلتے سورج کی شعاعیں پڑ رہی ہیں تو ختم ہو جاتا ہے قصہ اگر وہ بولے نہ تو اس کا عاشق تو ویسے ہی پاگل ہو جائے۔جو اس سے دور ہے وہ اور دور ہو جائے اور یہ انسان جو کہتا ہے کہ میرا احسان ہے اللہ پر کہ اسے دنیا بھول چکی تھی میں نے نئے سے نئے دلائل نکال کے اور اس کی خدائی ثابت کی تو پھر تم خدا بن گئے وہ تو خدا نہ رہا۔خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر کرتا ہے اور جماعت احمدیہ کے لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی رنگ میں وقت سے پہلے غیب کی بات بتائی اور وہ پوری کر دکھائی۔ہمارے چھوٹے بچوں کو بھی اس نے اپنے اس عظیم احسان سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔۱۹۷۴ء میں میں سارا سارا دن ملاقات کرتا تھا دوستوں سے ان میں بچے بھی ہوتے تھے۔میں بچوں سے پوچھتا تھا مجھے یہ بتاؤ کبھی تمہیں کچی خواب آئی تو جو اس مجلس میں بچے بیٹھے ہوتے تھے قریباً سارے ہی کھڑے ہو جاتے تھے کہ ہاں ہمیں آئی۔بچے سے خدا بچے کی زبان میں بولتا تھا اس سے محی الدین ابن عربی کے تصوف کی اصطلاحات کی زبان میں تو نہیں بولنا تھا اس نے۔مثلاً یہ کہا خدا نے بچے کو کہ تیرے گھر میں بھینس ہے۔تیرے گھر کی بھینس بچہ دینے والی ہے۔یا کٹا ہوگا یا کٹی ہوگی۔میں تجھے بتا تا ہوں کئی ہوگی اور دس یا پندرہ دن کے بعد بچی پیدا ہوئی۔کٹی ہوئی۔کتنا اس کو مزہ آیا کہ خدا نے مجھے وقت سے پہلے کئی ہونے کی اطلاع دے دی۔پچھلے ہی سفر پر ہمارے ایک احمدی نوجوان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اس نے مجھے کہا نام رکھ دیں۔میں نے لڑکے کا نام رکھ دیا۔وہ چپ۔اس نے نوٹ کر لیا۔اس نے یہ سمجھا کہ میرے لئے اچھی فال ہے لڑکا پیدا ہو جائے گا۔جب دو اڑھائی ماہ رہ گئے بچے کی پیدائش میں تو لندن کی چوٹی کی جو لیڈی ڈاکٹر ز تھیں۔ان سے اس نے معائنہ کروایا تو ساری ڈاکٹروں نے مل کر متفقہ طور پر اس کو یہ بات بتائی کہ اب ایسے آلات نکل آئے ہیں کہ ہمیں پتہ لگ جاتا ہے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی اور تیری بیوی کے پیٹ میں لڑکی ہے۔اس کے دوستوں نے کہا اب تو پیشگوئی کر دی لیڈی ڈاکٹروں نے اب حضرت صاحب سے کہو۔میں ان دنوں وہیں تھا کہ لڑکی کا نام رکھیں۔وہ کہنے لگا کہ میں نے تو ایک دفعہ نام رکھوانا ہے رکھوالیا۔اب میں نے جا کے نام نہیں بدلوانا۔دواڑھائی مہینے وہ لیڈی ڈاکٹر ز ہماری زبان کے محاورے میں یوں کہا جاسکتا ہے قسمیں کھاتی رہیں کہ سوائے لڑکی