خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 563 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 563

خطابات ناصر جلد دوم ۵۶۳ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء ہمارے اللہ کے ساتھ مصائب اور سختیوں کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔اس کی خدائی اس کی عظمت کہتی ہے کہ میں مصائب کو دور کرنے والا ہوں۔اور سختیاں جھیلنے والوں کے لئے سکون کا سامان پیدا کرنے والا ہوں میرے اوپر مصائب اور سختیاں نہیں آتیں۔میں السلام ہوں۔پھر یہ نتیجہ نکلے گا اگر یہ آپ سمجھ لیں کہ خدا تعالیٰ پر بھی مصائب اور سختیاں آسکتی ہیں کہ اگر وہ آپ ہی مصیبتوں میں پڑے گا۔لوگوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا اور اپنے ارادوں میں ناکام رہے گا اس کے بدنمونے کو دیکھ کر کس طرح دل تسلی پکڑے گا کہ ایسا خدا ہمیں جو عاجز انسان ہیں ضرور مصیبتوں سے چھڑانے میں کامیاب ہو گا۔خدا تو وہ ہے کہ سب قوتوں والوں سے زیادہ قوت والا اور سب پر غالب آنے والا ہے ایسی غلطیوں میں پڑنے والے خدا کی قدر نہیں پہچانتے۔یہ قرآن کریم کی آیت کی تفسیر ہی ہے پھر قرآن کریم میں ہے سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا (بنی اسرائیل (۴۴) که اللہ تعالیٰ بلند و بالا ہے اس بات سے جو مشرک لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔قرآن کریم نے ممکن ہے اور بھی باتیں منسوب کی ہوں میں جلدی میں صرف دو باتیں اُٹھا سکا قرآن کریم میں سے۔ایک یہ کہ مشرک کہتا ہے کہ ہم شرک اس لئے کرتے ہیں لِيُقَرِبُونَا إلى الله (الزمر:۴) کہ ہمیں اللہ کے قرب میں لے جائیں گے۔خدا تعالیٰ کا قرب ہمیں حاصل ہو جائے گا بتوں کی بدولت اور دوسرے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کے حضور ہماری شفاعت کریں گے مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ (البقرة : ۲۵۶) شفاعت تو وہی کرے گا جسے اللہ اذن دے گا اور جس کے حق میں اللہ اذن دے گا وہ وہی ہوگا جو شرک نہیں کرنے والا ہوگا۔تو جو مشرک ہے اس کے بتوں کو تو خدا تعالیٰ نے شفاعت دینے کا اذن نہیں دینا اور نہ وہ یہ طاقت رکھتے ہیں کہ خدا کے قریب کر دیں۔اللہ اس سے پاک ہے۔بعض لوگوں کا یہ غلط خیال بھی ہے کہ خدا تعالیٰ خود اپنے وجود کی اپنے بندوں کو خبر نہیں دیتا بلکہ انسان اپنی کوشش سے ایسے دلائل نکالتے ہیں جس سے خدا کی خدائی ثابت ہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے بندوں کا احسان اللہ جل جلالہ کے اوپر ہو گیا۔یہ غلط ہے۔خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک ہی بات میں نے اٹھائی ہے۔اگر وہ یہ نہ کہے کہ انَا الْمَوْجُود تو جو دنیا میں اس وقت خدا تعالیٰ پر اس سے زیادہ ایمان رکھتے ہیں جس طرح میں