خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 561
خطابات ناصر جلد دوم ۵۶۱ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء ایک لفظی کہ ہو جا اور ہو جاتا ہے۔یہ جو گلیکسیز (galaxies) جس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہماری زمین ہے بے شار گلیکسیز کہتے ہیں ستاروں کے اس قبیلے کو جس میں بے شمار سورج ہیں اور ہر سورج کے گر دستارے گھوم رہے ہیں۔تو یہ ایک گلیکسی۔اب سائنس دان اس طرف آرہے ہیں۔اپنی تحقیق کے نتیجہ میں کہ ہمیں اس طرح نظر آتا ہے کہ جب اتنی جگہ پیدا ہو جائے دو گلیکسیز کے درمیان کہ ایک گلیکسی بے شمار سور جوں پر مشتمل وہاں سما سکتی ہو تو کُن کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نہ کوئی ارادہ ایسا اس کی عظمت اور شان۔اس کی جو کبریائی ہے اور اس کا علو ہے اور اس کی جو خدائی ہے کوئی خیال اس کے آہی نہیں سکتا کہ جس کے پورا کرنے میں کسی اور کا وہ محتاج بن جائے۔احتیاج اور ہو۔یعنی ہماری عقل یعنی عقلِ سلیم جو ہے جب غور کرتی ہے تو انکار کرتی ہے کہ خدا کے متعلق ایسا سمجھا جائے کہ اس کو کسی کی احتیاج ہے۔کوئی خواہش ایسی نہیں۔اس کی مثال یہ بنی کہ انسان نے اپنی بیوقوفی سے اپنے اللہ کی طرف سیکس (sex) کی خواہش منسوب کر دی کہ اس کو کہتے ہیں نا کہ بیٹا۔خدا بیٹا۔تو خدا بیٹے کے لئے ایک تو میں ابھی آؤں گا بعد میں لیکن پہلے تو جنسی خواہش چاہئے۔بندہ خدا۔خدائی اللہ کی کہاں رہ گئی اگر تم یہ سوچو گے۔تو کوئی ایسی خواہش جس کے پورا کرنے کے لئے ایک عورت کی ضرورت ہو ہی نہیں سکتی۔کیونکہ وہ تو الصَّمَدُ۔وہ کسی چیز کا محتاج نہیں۔یہ ہے سُبحان اللہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اس چیز سے کہ اسے کسی چیز کی احتیاج پیدا ہو اور اس کائنات کی ہرشی ایسی ہے جسے ہر آن خدا تعالیٰ کی احتیاج رہتی ہے اپنی زندگی کے لئے بھی۔اپنی بقاء کے لئے بھی۔یہ ہے جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے شرک کے مقابلے میں۔تو پہلی چیز تو یہ ہے کہ صرف جنسی خواہش نہیں۔بلکہ کسی قسم کی کوئی ایسی خواہش خدا تعالیٰ میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی کوئی ارادہ۔کوئی نیت ایسی ہو ہی نہیں سکتی جس کا کرنا اس کے لئے مشکل ہو اور کرنے کے لئے کسی غیر کی احتیاج اُسے ہو۔نعوذ با اللہ پھر وہ خدا نہیں رہتا۔جو ہمارا خدا ہے۔جو اسلام نے ہمیں سکھایا وہ تو الصَّمَدُ۔اس کو کسی چیز کی احتیاج نہیں ہے۔اور اس کو بیٹے کی بھی احتیاج نہیں۔اگر وہ القمدُ ہے تو اس کو بیٹے کی احتیاج نہیں۔مجھے