خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 556
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۱ء ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اُس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا یعنی جو شخص خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاتا اور توحید پر قائم ہے، وہ تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھتا ہے اور تمام کو هالكة الذات کہ اپنے نفس میں ہلاک ہونے والی اور باطلة الحقیقۃ اور اپنے نفس میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔اس وقت تک قائم ہیں جب تک خدا قائم رکھنا چاہے اور اُس وقت تک اُن کی کوئی حقیقت ہے اُن کا کوئی فائدہ ہے۔وہ انسان کے کام آ رہی ہیں جب تک کہ خدا تعالیٰ جو قیوم ہے اپنے اس صفت کا پر تو اُن کے اوپر نہ ڈال رہا ہو ورنہ و باطلة الحقیقۃ ہو جاتی ہیں۔دوسری شکل یا جہت توحید کی یہ ہے کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر ربّ الانواع یا انسان نظر آتے ہیں یہ اُسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساری کائنات اور اُس کے تمام اجزاء اور قسمیں اور مالٹے کا درخت ، اس کا ہر پھل جو ہے میں تفصیل میں جا کر آپ کو سمجھا رہا ہوں، خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے بغیر تدریجی ارتقاء کرتے ہوئے اپنے جو اُس کی زندگی ہے اس کو عروج تک نہیں پہنچا سکتا۔نہیں ہوتا۔امرود ہے، کیڑا کھا جاتا ہے دوسرے پھل ہیں جانور کھا جاتے ہیں۔انسان کے لئے وہ کام کا نہیں رہتا۔ایسی بیماری آتی ہے کہ وہ جانوروں کے لئے بھی کام کا نہیں رہتا۔ایسی بیماری آتی ہے کہ اُس درخت کے لئے بھی اُس کا پھل کام کا نہیں رہتا اور اُس کی جڑوں میں گرتا اور درخت کو مار دیتا ہے۔تو ربوبیت کی صفت باری جو ہے۔بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ اُستاد بھی آپ کی ربوبیت۔آپ کی تربیت کر رہا ہے۔دوسرے محکمے ہیں ملک میں حکومتوں میں وہ کر رہے ہیں۔بین الاقوامی محکمے ہیں۔ٹھیک ہے ملتی جلتی چیزیں ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ سارے نظام ہمیں اس لئے نظر آتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ نظام اس کے بندوں کے لئے قائم کئے جائیں۔جب ، جس وقت جن حالات میں خدا چاہے کہ اُن کو مٹا دے، وہ مٹا دیتا ہے۔کسری نے بڑی شان دار حکومت کی سیاست کے میدان میں۔وہ ایک وقت تک خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کا کام لیا اُن سے، پھر مٹ گئے۔فراعنہ اُبھرے۔بڑی شان دار حکومت تھی اُن کی۔بڑے شان دار کھنڈرات انہوں نے چھوڑے ہیں اپنے پیچھے، لیکن وقت