خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 531 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 531

خطابات ناصر جلد دوم ۵۳۱ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۱ء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اتنے عظیم ارشادات ہیں جو آج کی سائنس بھی سن کے حیران ہو جاتی ہے۔اتنا پیار کرنے والا وہ وجود ( درود بھیجا کرو جس حد تک ممکن ہو ) آج سے چودہ سو سال پہلے آپ کے دانت اور مسوڑھے کا خیال رکھا انہوں نے۔ایک بڑا اچھا ہمارا احمدی ڈینٹسٹ (Dentist) تھا۔وہ کہنے لگا نئی معلومات میں سے ہماری ایک نئی ایجاد کہ برش جو ہے وہ نیچے سے اوپر کیا جائے۔اوپر سے نیچے نہ کیا جائے مسوڑھوں کو تکلیف ہوتی ہے۔میں نے کہا یہ آج آپ لوگوں نے معلوم کیا ؟ یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اس وقت برش نہیں تھا مسواک تو تھی کہ مسواک اس طرح کرو کہ مسوڑھے زخمی نہ ہوں۔اس طرح کرو بتائی ترکیب۔جس شخص نے آپ کے مسوڑھے کی بہبود کے لئے سوچا اور دعا کی اور خدا سے علم پایا اور آپ تک پہنچا دیا۔اتنے احسان ہوں گے، گن نہیں سکتے آپ۔میں سچ کہتا ہوں آپ نہیں گن سکتے لیکن آپ جو درود بھیجتے ہیں وہ تو گن سکتے ہیں۔کتنا ظلم ہے بغیر حساب کے لے کے حساب میں دعا دینا واپس۔اس واسطے جتنا درود ہو وہ کریں۔خدا تعالیٰ کو جتنا یاد ہو وہ کریں۔اور یہ اب میں بات کر رہا ہوں ضرورت کی۔وہ ضرورت پوری ہوگئی۔ادھر ادھر جانے کی بجائے وہاں جائیں۔ابھی ابتداء ہے میری نگرانی میں ہے۔ابھی تک ابتداء۔جب اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔پھر کسی اور کام کو لے کے اس طرف توجہ پھیر دوں گا لیکن فی الحال میں ذاتی طور پر اس میں دلچسپی لے رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی بہترین کوئی بک شاپ ہو تو اس سے اچھی ہو یہ اور سب سے اچھی کی نہیں ) جو اچھی بک شاپ ہے ان میں سے ایک کی خصوصیت یہ ہے کہ بلیک ویلز (آکسفورڈ میں بہت بڑی دکان ہے دنیا کی مشہور دوکان کتابوں کی ) اتنا خیال رکھتے ہیں گاہک کے وقت کا کہ میرا اپنا حساب تھا ان کے ساتھ تو مجھے کوئی کتاب کی ضرورت ہوتی تھی میں کتاب لینے کے لئے دوکان میں داخل ہوتا تھا۔( کھلی کتابیں پڑی ہوئی ہیں Shelves میں ) اپنے مطلب کی کتاب لے کے اٹھائے جو کاؤنٹر پر آدمی بیٹھا ہوتا تھا اس کو میں کہتا تھا یہ میں لے جارہا ہوں۔وہ کہتا Yes Sir نہ میرا نام پوچھتا تھا۔نہ کتاب کا نام پوچھتا تھا۔نہ اس کی قیمت دیکھتا تھا۔سب کچھ اس کے دماغ میں حفظ ہوتا تھا اور ٹرم کے ختم ہونے کے اوپر وہ قیمت لے لیتا۔اصل یہ تھی کہ جو خریدار ہے اس کا وقت ضائع نہیں کرنا۔یہاں تو قیمت کے اوپر جھگڑا ہو جائے گا تو