خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 517

خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۷ افتتاحی خطاب ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۱ء انسان کے سینوں کو اس سے منور کرنا اور جو مقصد ہے ہمارا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سے حسن پیدا کرنا، انسان کی زندگی جس کے نتیجہ میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر ، امت واحدہ بن کر، نوع انسانی سارے ایک ہو کر، ایک خاندان بن جائیں اس مقصد سے نظر نہیں ہٹانی نہیں مٹانی ، نہ ادھر دیکھنا ہے نہ اُدھر دیکھنا ہے، اس غرض کے لئے یہ جلسہ قائم کیا گیا جلسہ قائم کرنے والے نے۔اس مقصد کے حصول کے لئے ہم یہاں جمع ہوتے ہیں جس قدر ممکن ہو حاصل کرو کچھ ، جس قدر ممکن ہو حاصل کر کے جو نیک اور پاک باز جو خیر کی باتیں دیکھو وہ دنیا تک پہنچاؤ۔عاجزی کے ساتھ ہماری کسی سے لڑائی نہیں۔میں نے بار بار ا علان کیا کہ ہم کسی سے دشمنی نہیں رکھتے ان سے بھی جو غلط فہمی کے نتیجہ میں خود کو ہمارے دشمن سمجھتے ہیں ہم ان سے بھی پیا کر کے ان کے لئے دعائیں کرنے والے ہیں اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ اگر آج کی نسل نہیں تو آنے والی نسل ہمارے اس جذ بہ کو پہچان کر ہمارے اندر شامل ہو جائے گی اس لئے نہیں کہ ہمیں کچھ چاہئے بلکہ اس لئے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے یہ بھائی خدا تعالیٰ کے نور اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتوں سے محروم نہ رہیں جس طرح ہم نے جو پایا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پایا ہماری خواہش ہے کہ ساری دنیا کو اکٹھا کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا جمع کریں۔پس اپنے مقام کو پہچانیں اور کسی چیز کی پرواہ نہ کریں وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ( الطلاق : م ) تمہیں تسلی دلائی ہے تمہارے پیارے ربّ نے کہا ہے مجھ پر تو کل کرتے رہنا تمہیں کسی اور کی ضرورت نہیں پڑے گی فَهُوَ حَسْبُهُ اللہ کہتا ہے میں تمہارے لئے کافی رہوں گا بدظنی کریں گے آپ مجھ پہ نہیں کبھی نہیں کریں گے، اللہ ہمارے لئے کافی ہے اس پر ہمارا تو کل ہے خدا تعالیٰ کا جو منصو بہ اس زمانہ میں اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کا ہے اور یہ منصوبہ ہے کہ غالب کرے گا وہ جماعت احمدیہ کی حقیر جاں نثاری کی کوششوں سے، وہ تو پورا ہوگا ہمیں اپنے رب کریم سے بے وفائی نہیں کرنی چاہئے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن دیکھ کر کسی غیر کی طرف آنکھ نہیں اٹھانی چاہئے ہمیں قرآن کریم کی تعلیم کی عظمتوں کو جاننے کے بعد، شناخت کرنے کے بعد، پہنچاننے کے بعد کسی اور ازم یا تعلیم یا عقیدے کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہئے۔قرآن سمجھنے کے لئے خدا کے حضور عاجزانہ دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں اپنے فضل سے وہ طہارت عطا کرے جس کے نتیجہ میں اس کے