خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 516
خطابات ناصر جلد دوم ۵۱۶ افتتاحی خطاب ۲۶ / دسمبر ۱۹۸۱ء سے تو کچھ نہ لائے خدا کی دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے مل رہی ہے آنے والے نے کہا وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے جب تک جماعت احمدیہ کے افراد اس روحانی اور اخلاقی تربیت کو کمال تک پہنچانے کی جد و جہد کرتے رہیں گے اور ہر دکھ سہہ کر دنیا میں سکھ پھیلانے کی کوشش کریں گے گالیاں سنیں گے دعائیں دیں گے ، دکھ پائیں گے خوشحالی کے سامان پیدا کریں گے، جب تک کہ احمدی کی آنکھ خیر دیکھے گی دُنیا کے لئے شر نہیں تلاش کرے گی ، جب تک اُس کی زبان حقارت سے نہیں بولے گی بلکہ عزت کے الفاظ میں ہر انسان کے ساتھ مخاطب ہوگی ، جب تک جوارح خدمت نوع انسانی میں لگے رہیں گے جب تک خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کے بعد اور زیادہ بجز اور انکساری اور تواضع کی کیفیت دلوں میں پیدا ہوگی اور زمین کی طرف جھکتے چلے جائیں گے اس وقت تک خدا تعالیٰ کی نعمتیں آسمانوں سے بارش کے قطروں سے بھی زیادہ نازل ہوتی چلی جائیں گی اور ہم اپنے کام میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔پس جو ایسی باتیں جن کو آپ کی طبیعتیں پسند نہیں کرتیں وہ سنیں تو خدا کے لئے خدا کے بندوں کے حق میں دعائیں کرنے لگ جائیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ ایک دوسرے کو دکھ پہنچائیں۔اذیت دیں حقارت کی نگاہ سے دیکھیں انسان نے ایک وقت میں افریقہ کے ممالک میں انسانیت کو اس قدر حقارت کی نگاہ سے دیکھا کہ جب میں ۱۹۷۰ء میں وہاں گیا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ قو میں سمجھتی ہیں۔دنیا میں کوئی شخص ان سے پیار کرنے والا پیدا نہیں ہوا اور جب میں نے خدا کے فضل سے اور حضرت مہدی علیہ السلام کی تربیت کے نتیجہ میں ان کے ایک بچہ کو پہلی دفعہ جلسہ عام میں اٹھایا سینہ سے لگایا اور اُسے بوسہ دیا تو خوشی کی اس قدر لہر دوڑی ان کے اندر کہ ویسے خوشی میں آواز نہیں بظاہر لیکن میرے کانوں نے اس خوشی کی لہر کو سنا، مجھے خوشی بھی ملی کہ جو ان کا حق تھا اُن کو ملا اور مجھے دکھ بھی ہوا کہ کس قدر بدنصیبی میں دن گزارے ہیں ان قوموں نے کہ وہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ دنیا کی کوئی قوم ان سے پیار کرنے والی ابھی پیدا نہیں ہوئی۔پس جو مقصد ہے ہمارا، خدا تعالیٰ کے نور کو دنیا میں پھیلا نا اور