خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 506 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 506

خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء اس طرح پر وہ اپنی ذات بیمثل و مانند کانمونہ پیدا کرتا ہے کہ اپنی ذاتی خوبیاں جن پر اس کا علم محیط ہے عکسی طور پر بعض اپنی مخلوقات میں رکھ دیتا ہے اور (اپنے۔ناقل ) کمالات کا انتہائی درجہ جو حقیقی طور پر اس کو حاصل ہے ظلی طور پر اس مخلوق کو بھی بخش دیتا ہے جیسا کہ اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ بھی ہے۔وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتٍ (البقرة :۲۵۴) اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جن کو ظلی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اظلال و آثار ہیں بخشے گئے۔“ سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۲۳۲ تا ۲۳۵ حاشیه ) پھر آپ فرماتے ہیں اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخلقی طور پر خداوند قادر مطلق سے دی گئیں ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے۔جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَتی۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى (النجم: ۱۹) یعنی وہ (حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کا ملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر۔اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدتِ قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس نا پیدا کنار دریا میں جا پڑا اور الوہیت کے بحر اعظم میں ذرہ بشریت گم ہو گیا۔اور یہ بڑھنانہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظنی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریریں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہر اویں پھر دوسری آیت قرآن شریف کی جس میں یہی تشبیہ نہایت اصفی و اجلی طور پر دی گئی ہے یہ ہے۔اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدَ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ (الفتح :(1) یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔واضح ہو کہ جولوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز