خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 505
خطابات ناصر جلد دوم اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور ان کی صورت اور ان کی آنکھ اور ان کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور ان کے بال بال سے مترشح ہورہا ہے وہ ان کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا۔اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہو جاتا ہے اور سب سے بزرگ تر ان کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں اور اگر آلام اس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔کسی تلوار کی تیز دھاران میں اور ان کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلدیہ عظمیٰ ان کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتے اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذات پاتے اور اسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔اگر چاہتے ہیں تو اسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اسی کے ہو رہتے ہیں۔اسی کے لئے جیتے ہیں۔اسی کے لئے مرتے ہیں۔عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور با خود ہو کر پھر بے خود ہیں نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔لا یدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور فہیم سے صسم و بکم ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر یک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اُس سے لذت پاتے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۴۰،۵۳۹ حاشیه در حاشیه نمبر۳) یہ شاگرد ہیں جو استاد ہے اس کا مقام ہم نہیں سمجھ سکتے وہ اتنا بلند ہے یہ عبودیت کا مقام اور یہ محبت کا افضل مقام ، ان دو افضلیتوں کے نتیجہ میں وہ عظیم افضلیت، وہ فضیلت، وہ مرتبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا جو اپنی ہی شان رکھتا ہے اور دنیا جو ہے وہ سمجھ ہی نہیں سکتی کہ یہ کیسے ہو گیا کہ ہم میں سے ایک انسان مظہر اکمل واتم صفات باری تعالی بن گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی نہیں بناتا کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازل ابدی طور اس میں پائی جاتی اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے ہاں