خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 502

خطابات ناصر جلد دوم ۵۰۲ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۸۰ء اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ کہ آنحضرت صلی علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ( النساء:۱۱۴) یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے۔( کیونکہ سارے انبیاء کے کمالات جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کئے تھے اللہ تعالیٰ نے وہ تجھے عطا کر دیئے اور ایک وجود میں وہ سارے کمالات جمع ہو گئے کمالات متفرقہ۔ناقل ) براہین احمدیہ حصہ چہار قصص روحانی خزائن جلد نمبر صفحه ۶۰۶ حاشیه در حاشیه نمبر۳) اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کو ختم کرنے والے اپنے کمالات تامہ کے ساتھ۔اللہ تعالیٰ کی برکات اور رحمتیں اور صلوات وسلام ہوں آپ پر ( نعرے)۔یہ تو نسبتی فضیلتیں جن کا میں نے ذکر کیا۔کائنات کے لحاظ سے خاتم الکل انسان کے لحاظ سے خاتم انسانیت مومنوں کے لحاظ سے خاتم المومنین عارفوں کے لحاظ سے خاتم العارفین انبیاء کے لحاظ سے خاتم الانبیاء لیکن ایک فضیلت ایسی ہے جو نسبت سے نہیں بلکہ اپنی ذات میں وہ ایک کامل فضیلت نے اور وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم الوہیت کے مظہر اتم تھے تمام صفات الہیہ کے اتم و اکمل مظہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور اسلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۸) رای مارای میں بھی یہی بتایا گیا ہے یہ وہ جو ہے اپنی ذات میں افضیلت اور کمال قطع نظر نسبتوں اور موازنہ کے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا کہ آپ افضل ہیں اپنی ذات میں وہ یہ ہے وہ مقام کہ جس کا انسان کی عقل اندازہ نہیں لگا سکتی۔اشارے قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور