خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 474
خطابات ناصر جلد دوم ۴۷۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ دسمبر ۱۹۸۰ء یورپ کے ہر ملک میں ہو۔وہاں سے جو سیاح چلے ہر ملک میں اس کے ہاتھ میں اگر اس کی اپنی زبان میں وہی فولڈر ملتا رہے بار بار اس کی طبیعت پر بڑا ہی اثر پڑے گا۔تبلیغ بڑے زور شور سے جماعت احمدیہ نے شروع کر دی ہے کہ جہاں میں جاتا ہوں میرے ہاتھ میں پکڑانے والا ایک فولڈر موجود ہوتا ہے وہاں۔وقف جدید نے کچھ ٹرانسلیشنز (Translations) شائع کئے ہیں۔دعوت الا میر کا ترجمہ سندھی میں اور گورونانک جی سندھی میں اور یا در رکھنے کی باتیں پشتو میں اور احمدیت کا پیغام پشتو میں اور احمدیت کا پیغام اردو میں اور وصال ابن مریم اردو میں اور آیت خاتم النبین اور جماعت احمدیہ کا مسلک اردو میں اور انصار اللہ نے چودھویں اور پندرھویں صدی کا سنگم اور بعض دوستوں نے اور بھی کتابیں لکھی ہیں۔ان سب کتابوں کی طرف توجہ کریں اور سارے جو ہیں نا کتابیں لکھنے والے ادارے بھی اور افراد بھی مجھے پندرہ روزہ ر پورٹ دیا کریں کہ ان کی کتنی پکری ہورہی ہے۔امداد دوران سال ہماری ساری جماعتی انجمنیں جو ہیں ادارے ہیں وہ کارکنوں کو گزارہ دیتے ہیں۔گزارے کے علاوہ امداد بھی دیتے ہیں۔مثلاً ایک طریقہ یہ ہے کہ سارے سال کی سارے dependents جو گھر میں کھانا کھانے والے ہیں ، ساڑھے چار من سالانہ فی کس کا اندزاہ کر کے نصف گندم ان کو مفت بطور ہدیہ کے ادارہ دے دیتا ہے۔تو اس پر کافی رقم خرچ ہوتی ہے۔مثلاً اگر کسی کے گھر میں دس افراد ہیں بہت سارے بچے ہیں ماشاء اللہ۔تو پنتالیس من گندم کی ضرورت پڑی ان کو۔تو ساڑھے بائیس من گندم صد را انجمن احمد یہ مفت اس گھر کو دے دیتی ہے اور بقیہ ساڑھے بائیس من کے پیسے قرض دے دیتی ہے۔جو ماہوار تنخواہ سے کٹ جاتے ہیں۔سارے سال کا اناج روٹی کی شکل میں ان کے پاس ہوتا ہے۔اس شکل میں کوئی آدمی بھوکا نہیں رہ سکتا۔اگر غلطی نہ کر بیٹھے۔تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جا سکتا تھا خلاصہ یہ نکالا ہے کہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ۱۲۴۸۷۴۳ روپے کی امداد دی گئی ان میں سے ۱۲۳۷۱۱ روپے کی امداد انجمن کے کارکنوں کو دی گئی اور ۶۲۵۰۳۲ روپے کی امداد ان مستحقین کو دی گئی جو صدرا انجمن احمدیہ کے کارکن نہیں لیکن جو ضرورت مند ہیں ان کی ضرورتیں پوری ہونی چاہئیں۔تحریک جدید کی طرف سے اپنے کارکنوں کو