خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 427

خطابات ناصر جلد دوم ۴۲۷ اختتامی خطاب ۲۸ دسمبر ۱۹۷۹ء قبولیت دعائے ابراہیمی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تیسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۹ ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔طبیعت ابھی خراب چلی آرہی ہے بعض علامتوں میں افاقہ ہے۔آج صبح مسجد میں میں گیا نماز فجر کے لئے تو مسجد میں جا کے مجھے احساس ہوا کہ میرا گلا قریباً بیٹھ چکا ہے۔کوشش کی ہے اپنی طرف سے کہ کچھ گلے کو کمک پہنچاؤں دوائیوں سے وہ کام کرنے لگے۔پوری طرح کھلا نہیں لیکن صبح کی نسبت کافی فرق ہے بہر حال انشاء اللہ آواز آپ تک پہنچ جائے گی نہ پہنچے تو آپ ہاتھ کھڑا کر دیں جس کو میری آواز نہ آئے۔آج یعنی جلسہ سالانہ کے تین ایام میں سے آخری اور تیسرے دن علمی کوئی مضمون لیا جاتا ہے یا علمی عملی کوئی مضمون لیا جاتا ہے۔دوستوں کو یاد ہو گا بعض کو تو ہوگا ، ہی ، کہ کچھ عرصہ ہوا میں نے تعمیر بیت اللہ کے مقاصد پر کچھ خطبے دیئے تھے جو ایک رسالے کی چھوٹی مختصر سی کتاب کی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ان میں میں نے بتایا تھا کہ تعمیر نو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے کروائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قریباً دو ہزار سال قبل اس میں تئیس مقاصد ملحوظ تھے۔اور میں نے بتایا کہ سارے کے سارے مقاصد ایسے تھے جن کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے نہیں تھا نہ اس زمانہ سے تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبل کا زمانہ تھا۔نہ اس زمانہ سے تھا جو حضرت ابراہیم کے زمانہ سے بعد کا زمانہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت تک کا زمانہ تھا بلکہ یہ سارے ہی مقاصد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بعثت سے تعلق رکھتے تھے اور جو چار بنیادی فرائض آپ کے تھے اور جو مقاصد تھے آپ کی بعثت کے، ان چاروں سے تعلق تھا ان مقاصد کا۔مثلاً قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ :