خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 422
خطابات ناصر جلد دوم ۴۲۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۹ء اس کا ہمیں اس سے پتہ لگتا ہے کہ جو ریز روفنڈ ۱۹۷۰ء میں اکاون لاکھ کی اپیل پر اور ترپن لاکھ چھہتر ہزار کی عملاً وصولی پر قائم ہوا تھا۔اس میں خدا نے برکت ڈالی۔دوست بڑی ہمت کرتے ہیں۔جوا پیل ہے اُس سے زیادہ چندہ آ جاتا ہے۔یہ سرمایہ تھا۔اس کے متعلق بہت سی باتیں میں پہلے بتا چکا ہوں۔دہرانے کی ضرورت نہیں۔ترپن لاکھ کا سرمایہ تھا جو وہاں لگایا گیا اور ترپن لاکھ کا سرمایہ جو آپ نے دیا۔قربانی دی خدا کے حضور، خدا نے اُسے قبول کیا اور اُس میں برکت ڈالی۔اتنی برکت ڈالی کہ اس ترپن لاکھ میں سے آپ کئی کروڑ روپے پہلے خرچ کر چکے ہیں۔یہ آپ جمع تفریق کر کے نکالیں۔ترتین لاکھ میں سے کئی کروڑ روپیہ ہم خرچ کر چکے ہیں اور اس سالِ گذشتہ میں اُس ایک سال میں ترتین لاکھ جو تھا اس میں کئی سے کروڑ خرچ ہونے کے بعد ایک کروڑ انتالیس لاکھ چوالیس ہزار روپیہ ہمارے پاس تھا اور اس میں ایک کروڑ سات لاکھ چوبیس ہزار روپیہ خرچ ہو گیا اور باقی چھہتر لاکھ روپیہ پیچ گیا۔یہ تر پن لاکھ میں سے سب کچھ ہوا۔تو ترپن لاکھ میں تو حساب کی رو سے ایسا نہیں بنتا۔اگر ترپتن لاکھ میں آپ خدا تعالیٰ کی برکت اور رحمت شامل کر دیں تو یہ بن جاتا ہے۔ترپن لاکھ جو آپ نے قربانی پیش کی خدا کے حضور اُس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی برکت ڈالی۔پھر جو تر پن لاکھ جمع برکت ، اُس نے یہ شکل بنائی کہ کئی کروڑ روپیہ خرچ ہو گیا اور پھر بھی بچ رہا اور سال رواں جواب ختم ہو رہا ہے۔اس میں ایک کروڑ انتالیس لاکھ چوالیس ہزار ( یہ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں کتنا کمزور ہوں بیماری کی وجہ سے ) یہ رقم تھی پڑی ہوئی۔اس سال خرچ ہوا ایک کروڑ سات لاکھ چوبیس ہزار روپیہ اور پھر ترپن لاکھ میں سے چھہتر لاکھ روپیہ بیچ بھی گیا۔اس کے علاوہ ایک کروڑ پینتیس لاکھ کی عمارات وغیرہ ہیں وہاں موجود یعنی ترین لاکھ میں سے سارے کروڑ خرچ کرنے کے بعد دو کروڑ گیارہ لاکھ پینتیس ہزار روپیہ سرمایہ کی صورت میں نقدی کی صورت میں یا سرمایہ عمارتوں وغیرہ کی صورت میں رہا۔یہ ہے اللہ کی برکت ! ایک بزرگ نے مجھے کہا تھا آپ کے پاس ترپن لاکھ روپیہ ہے تجارت پر لگا دیں جو آمد ہو، اُس سے آپ اپنا منصوبہ چلائیں۔میں نے اُن سے پوچھا آپ زیادہ سے زیادہ کیا امید رکھتے ہیں، کتنی آمد ہوسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر بہت ہی حد ہو جائے تو بارہ چودہ فیصد نفع ہو جائے